حکومت کا ایندھن کی بچت کیلئے مزید اقدامات نہ کرنے کا فیصلہ

Calender Icon جمعہ 30 اکتوبر 2026

حکومت نے  ایندھن کی بچت کے لیے مزید اقدامات کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک میں پیٹرول کا ذخیرہ 22 روز جبکہ ڈیزل کے ذخائر 30 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ حکومت کے مطابق ایندھن کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اور قلت سے بچنے کے لیے درآمدات کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔

رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک(Ali Pervaiz Malik) نے کہا کہ کفایت شعاری کے موجودہ اقدامات برقرار رہیں گے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کے موجودہ ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 22 ستمبر تک ملک میں پیٹرول کا ذخیرہ تقریباً 3 لاکھ 95 ہزار ٹن تھا، جبکہ بندرگاہ پر لنگر انداز اور بیرونی لنگرگاہ پر موجود جہازوں کے ذخائر کو شامل کرنے کے بعد مجموعی دستیابی تقریباً 5 لاکھ 6 ہزار ٹن ہوگئی تھی۔ یہ مقدار یومیہ اوسط فروخت 22 ہزار 500 ٹن کے حساب سے تقریباً 22 روز کی ضروریات کے برابر ہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق ڈیزل کے ذخائر تقریباً 5 لاکھ 68 ہزار ٹن تھے، جو یومیہ اوسط کھپت 19 ہزار ٹن کے حساب سے تقریباً 30 روز کے لیے کافی ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے ستمبر کے لیے تقریباً 5 لاکھ 11 ہزار ٹن پیٹرول درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، جبکہ اس دوران متوقع طلب 6 لاکھ 92 ہزار ٹن اور مقامی ریفائنریوں سے فراہمی 2 لاکھ 62 ہزار ٹن رہنے کا تخمینہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیزل کی درآمد کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا کیونکہ ابتدائی ذخائر تسلی بخش تھے اور ریفائنریوں سے تقریباً 5 لاکھ 55 ہزار ٹن فراہمی متوقع تھی۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت ماہانہ بنیادوں پر طلب، ریفائنریوں کی پیداوار اور درآمدی ضروریات کا جائزہ لیتی ہے۔

مزیدپڑھیں:پہلی ہی گیند پر سدھو کے آؤٹ ہونے کا معاملہ، وقار یونس نے کپل شرما کو ذمہ دار قرار دیدیا

ان کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مل کر ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بناتی ہے۔

پیٹرول کی فروخت میں اتار چڑھاؤ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جولائی میں اس کی فروخت سالانہ بنیادوں پر تقریباً 18 فیصد بڑھ گئی تھی، جو گزشتہ برسوں میں ریکارڈ کیے جانے والے تقریباً 5 فیصد اضافے سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ اس اضافے کی ممکنہ وجوہات میں موسم گرما کے دوران سیاحت میں اضافہ اور ڈیلرز کی جانب سے پیشگی ذخیرہ اندوزی شامل تھیں۔

تاہم اگست میں جولائی کے مقابلے میں پیٹرول کی فروخت تقریباً 9 فیصد کم ہوگئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی خریداری معمول پر آگئی تھی۔

وزیر پٹرولیم نے مزید بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین پلاٹس فری آن بورڈ عرب گلف قیمتوں کے سات کاروباری دنوں کے متحرک اوسط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اوگرا کو وفاقی حکومت یا وزیراعظم کی پیشگی منظوری کے بغیر روزانہ ایکس ڈپو قیمتوں کا تعین اور اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی منتقلی اور پیٹرولیم مصنوعات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ریٹیل آؤٹ لیٹس پر غیر معمولی فروخت کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اوگرا کی فیلڈ ٹیمیں مشتبہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کے لیے صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کرسکتی ہیں۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادائیگیوں کے حوالے سے وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت قیمتوں کے فرق کے مجموعی 120 ارب 30 کروڑ روپے کے دعوؤں میں سے 53 ارب 80 کروڑ روپے ادا کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزید ادائیگیاں دستاویزی شواہد کی تصدیق اور اوگرا کے مقرر کردہ آڈیٹر کے آڈٹ سے مشروط ہیں۔ دعوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور مقررہ جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد مزید ادائیگیاں کی جائیں گی۔