وزیرِ اعظم کا ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے لیے آسان قرضوں پر زور

Calender Icon پیر 2 نومبر 2026

اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بینکوں کو چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کے تحت قرضوں کی فراہمی میں سست روی دکھانے والے بینکوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔

ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کی ترقی سے معیشت مستحکم اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی ہے، اس لیے حکومت اور سرکاری اداروں کی جانب سے بینکوں کو دیے جانے والے تعاون کے جواب میں ان سے بھی ترجیحی شعبوں کی مالی معاونت کی توقع ہے۔

وزیرِ اعظم نے وزیرِ خزانہ کو تینوں شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کے مالیاتی مسائل حل کرنے اور جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی، جبکہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل مل کر حل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے چھوٹے کاروباروں کو قرضوں کی آسان فراہمی کے لیے رسک کوریج کی حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 23 اکتوبر 2026 تک وزیرِ اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے ہیں۔ ہاؤسنگ فنانس کا مجموعی حجم 455 ارب روپے اور مستفید ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔

بریفنگ کے مطابق زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 329 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 35 لاکھ، جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 148 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 تک پہنچ گئی ہے۔

مالی سال 2027 کے اختتام تک زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک و اخراجات کی شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ پر کام کر رہا ہے۔ ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

 جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے لیے درخواست دینے کے ساتھ ان کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔

مزید پڑھیں:گل پلازہ گرانے کا فیصلہ، حکومت سندھ نے اشتہار جاری کردیا

اجلاس میں وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک، مشیران، ارکان قومی اسمبلی، اعلیٰ حکام اور مختلف کمرشل بینکوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔