حوثیوں کا جنگ بندی کیلئے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ، سعودیہ کی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی تردید

Calender Icon جمعہ 6 نومبر 2026

سعودی عرب نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ساتھ جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کے بدلے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی، جس کے اثرات یمن تک بھی پہنچے۔ جولائی میں حوثیوں کی جانب سے ایک ایرانی طیارے کو یمن میں اترنے کی اجازت دینے کے واقعے کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔ یمنی حکومت نے اس کے جواب میں ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور یمن کی خانہ جنگی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی بھی ختم ہوگئی۔

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کی کیا شرائط ہوسکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اس کے بدلے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا جبکہ وہ یمن کے حکمرانوں کے طور پر باضابطہ تسلیم کیے جانے کے خواہش مند بھی ہیں۔

تاہم سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری اور سفیر رائد کریملی نے حوثیوں کے مطالبات سے متعلق ان دعووں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ تمام باتیں خبر لکھنے والوں یا ان کے مبینہ ذرائع کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔

سعودی عہدیدار نے مزید کہا کہ ان ملیشیاؤں نے یمنی حکومت کے خلاف بغاوت کی، یمنی عوام کو قحط کا شکار کیا اور ملک کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں میں دھکیلا جو یمن اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ جلد کروں گا، ٹرمپ

ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں میں تجارتی جہازوں، شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور امن کی تمام کوششوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے خبر لکھنے والوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ یمن کی ایک تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔