بھارت کے شہر ممبئی میں بالی وڈ اداکار امیتابھ بچن کی رہائش گاہ، ممبئی ہائی کورٹ اور معروف گلوکار دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے مقام کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
بھارتی ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کے مطابق جمعے کو موصول ہونے والی ای میل میں امیتابھ بچن کے بنگلے ’جلسہ‘، ممبئی ہائی کورٹ اور مہالکشمی ریس کورس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔
مہالکشمی ریس کورس میں 27 نومبر کو گلوکار دلجیت دوسانجھ کا کنسرٹ شیڈول ہے۔
دھمکی آمیز ای میل کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم حکام نے بعد ازاں دھمکی کو جعلی قرار دے دیا۔
پولیس حکام کے مطابق مذکورہ مقامات کا سرچ آپریشن کیا گیا مگر اس دوران کسی مشکوک چیز کی موجودگی کی اطلاع نہیں ملی۔
واضح رہے کہ یہ رواں ماہ کے دوران دوسری مرتبہ ہے کہ امیتابھ بچن کی رہائش گاہ اور دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کو دھمکی آمیز ای میل میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل 23 اکتوبر کو ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے کے دفتر کو بھی ایسی ہی ای میل موصول ہوئی تھی، جس میں امیتابھ بچن کی رہائش گاہ اور دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے علاوہ شہر کے اسکولوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
اس ای میل میں خالصتان کا حوالہ دیتے ہوئے 31 اکتوبر کو اسکول پر دستی بم حملے اور دلجیت دوسانجھ کے 27 نومبر کو ہونے والے کنسرٹ میں خودکش حملے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق ای میل میں خالصتان نیشنل آرمی نامی تنظیم کا حوالہ دیا گیا تھا، تاہم اس تنظیم کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ میئر کے دفتر کی تلاشی کے دوران بھی کوئی مشکوک چیز نہیں ملی تھی۔
ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ اور بشنوئی گینگ
امیتابھ بچن اور دیگر مقامات کو دھمکی ایسے وقت موصول ہوئی ہے جب ممبئی میں حال ہی میں بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
18 اکتوبر کو ممبئی کے علاقے جوہو میں نامعلوم مسلح افراد نے ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔ اداکار اس حملے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک دوسرے شخص سمیت دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پیغام سامنے آیا تھا جس میں لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے انیل پنڈت اور ہرمن سندھو نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
مبینہ پیغام میں کہا گیا تھا کہ ٹائیگر شروف کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے انتباہ کو نظر انداز کیا۔ اس پیغام میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والے فلمی شخصیات کو بھی آئندہ نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
تاہم ممبئی پولیس نے ابتدائی طور پر اس سوشل میڈیا پیغام کی صداقت اور بشنوئی گینگ کے حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔
بعد ازاں پولیس تفتیش میں حملے کے سلسلے میں متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے۔ پولیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی کا مقصد بھتہ خوری کے لیے خوف پھیلانا اور جرائم پیشہ گروہ کا اثر و رسوخ قائم کرنا بھی ہوسکتا ہے۔
دیگر بالی وڈ اداکار بھی دھمکیوں کا سامنا
ٹائیگر شروف پر حملے کے بعد بالی وڈ کی دیگر شخصیات کو بھی دھمکی آمیز پیغامات اور بھتہ طلب کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق 4 نومبر کو اداکار تشار کپور کو ایک آڈیو پیغام موصول ہوا جس میں خود کو لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ بتانے والے شخص نے 5 کروڑ بھارتی روپے بھتے کا مطالبہ کیا۔
تاہم پولیس کو شبہ ہے کہ اس پیغام میں بشنوئی گینگ کا نام استعمال کرکے رقم بٹورنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے آڈیو کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا تھا، کیونکہ اس میں موجود آواز گینگ کے مبینہ رکن ہیری باکسر کی دستیاب آواز کے نمونوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
اسی روز اداکار آیوشمان کھرانہ کو بھی مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کے نام سے بھتہ طلب کرنے کی کال موصول ہوئی۔ پولیس اس کال میں استعمال ہونے والی آواز کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے۔
اس سے قبل رواں سال فروری میں اداکار رنویر سنگھ اور فلم ساز روہت شیٹھی کو بھی دھمکی آمیز آڈیو پیغامات موصول ہوئے تھے۔ ان پیغامات میں کروڑوں بھارتی روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور مطالبات پورے نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔
اسی سال فروری میں روہت شیٹھی کی ممبئی میں رہائش گاہ کے باہر بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کی تحقیقات میں پولیس نے لارنس بشنوئی گینگ کے مبینہ کارندوں کے روابط کا جائزہ لیا تھا۔
بشنوئی گینگ کا نام اس سے پہلے بھی سلمان خان کی ممبئی میں رہائش گاہ کے باہر فائرنگ اور سابق بھارتی وزیر بابا صدیقی کے قتل سمیت متعدد ہائی پروفائل واقعات میں سامنے آچکا ہے۔ان واقعات کے بعد ممبئی میں فلمی شخصیات کی سیکیورٹی بڑھانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان کا تجارتی خسارہ 16 فیصد بڑھ کر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا
اداکار امیتابھ بچن کی رہائش گاہ پر دھمکی آمیز ای میل اور ٹائیگر شروف پر فائرنگ سمیت حالیہ واقعات نے ممبئی میں بالی وڈ شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں، تاہم ان تمام واقعات کے درمیان کسی مشترکہ منصوبے یا بشنوئی گینگ کے کردار کی تصدیق نہیں ہوئی۔













جمعہ 6 نومبر 2026 
