بطور کپتان کوشش ہوگی اچھا کھیلوں اور بہتر فیصلے کروں، بابر اعظم

Calender Icon اتوار 8 نومبر 2026

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ جتنا زیادہ کھیلوں گا، اتنی ہی بہتر کارکردگی دکھاؤں گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اورسری لنکا کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ دو ٹیسٹ میچز کی سیریزکھیلی جائے گی، جس کا پہلا مقابلہ 9 نومبرسے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 نومبر سے لاہورکے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

 قومی ٹیم کی توجہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز پرمرکوز ہے، جس کے پہلے میچ سے قبل کپتان بابراعظم نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کی۔

اس سے قبل پاکستان نے راولپنڈی اورلاہورمیں سری لنکا اورانگلینڈ کی ٹیموں کیساتھ تین ملکی ون ڈے سیریز میں حصہ لیا، جس کا فائنل 31 اکتوبر کو لاہور میں کھیلا گیا، پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

راولپنڈی میں نیوزکانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم میں کئی نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے اوران سے بہترین کارکردگی لینا ان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ماضی سے سیکھنا چاہیے، ہم ہروقت بہترین اورپرفیکٹ کرکٹ نہیں کھیل سکتے تاہم محنت کرنا ہمارا کام ہے اورہم اسے جاری رکھیں گے۔

قومی ٹیسٹ کپتان کا کہنا تھا کہ وہ کوچزکے ساتھ بیٹھ کراپنی خامیوں پرکام کررہے ہیں اوراپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بابراعظم نے کہا کہ آنے والی سیریز قومی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہے اورتمام کھلاڑی اس کے لئے محنت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مداحوں کی توقعات کے حوالے سے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ شائقین کوان سے اچھی کارکردگی کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مداحوں کی امیدوں پر پورا اتریں۔

قومی ٹیسٹ کپتان نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا اوران کی صلاحیتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانا ٹیم کے لیے اہم ہے جبکہ مسلسل محنت اوراپنی غلطیوں سے سیکھ کر ہی کھیل میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا ہے کہ ٹیم میں 8 سے 9 نئے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں، بطور کپتان ان کی کوشش ہوگی کہ خود بھی اچھی کرکٹ کھیلیں اور میدان میں بہتر فیصلے کریں۔

انہوں نے کہا کہ انسان ہو یا کھلاڑی، ہرکوئی غلطی کرتا ہے، کوئی بھی مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہوتا، اچھی کرکٹ کھیلنے کے ساتھ بطور کپتان بہتر فیصلے کرنا بھی ضروری ہے کہ کس وقت کیا کرنا ہے، کس بولر کو استعمال کرنا ہے اور کس بیٹر کو کس موقع پر میدان میں اتارنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام پہلوؤں پرمنصوبہ بندی کررہے ہیں، ہماری توجہ مثبت کرکٹ کھیلنے پرہے، ماضی میں جو کچھ گزر گیا اس پر بات نہیں کرنا چاہتے، البتہ اس سے سیکھا ضرور جا سکتا ہے، ہرکھلاڑی کی اپنی گیم اور کھیلنے کا انداز ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بابراعظم نے کہا کہ ہرروز ایک جیسی غلطی نہیں ہوتی، کبھی ایک گیند پرکوئی غلطی ہوتی ہے تو اگلی گیند پردوسری نوعیت کی غلطی ہو سکتی ہے، اس لیے کھلاڑیوں کواپنی خامیوں پرکام کرنا چاہیے۔

ٹیم میں بعض کھلاڑیوں کو موقع دیے بغیر ڈراپ کیے جانے سے متعلق سوال پر قومی ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ کسی کھلاڑی کو منتخب کرنا یا ڈراپ کرنا ان کے اختیار میں نہیں، یہ سلیکٹرز کا کام ہے، یہ ٹیم آئندہ میچز کے لیے منتخب کی گئی ہے اور ان کی ذمہ داری کھلاڑیوں کو اعتماد دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑی پہلے ہی اچھے اعتماد کے ساتھ موجود ہیں، ان سے بات چیت کرکے مزید بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز محمد یوسف سے متعلق سوال پر بابراعظم نے انہیں پاکستان کے بہترین اور لیجنڈری کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیا۔

مزید پڑھیں:تصویر میں چھپا خزانہ: کیا آپ تمام اشیا تلاش کرسکتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی میں آؤٹ ہوتا ہوں تو اس میں میری اپنی غلطی ہوتی ہے اور اپنی وکٹ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے جو میں کررہا ہوں۔