پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ اور معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کی حراست کے خلاف دائر درخواستیں کاز لسٹ سے ڈی لسٹ کردیں۔
یہ اقدام وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر کیا گیا جس نے 5 نومبر کو خیبرپختونخوا حکومت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر مقدمات کی کارروائی معطل کردی تھی۔
اس حکم کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے 12 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد دائر آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت تمام رٹ پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا، جس کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ہو گیا۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال خراب ہونے، دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں صوبائی حکومت کی ناکامی کو فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔
وفاق اور خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلافات بھی شدت اختیار کرچکے تھے۔
پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے کے لیے متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
درخواست گزاروں میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی، خیبرپختونخوا بار کونسل، محسن داوڑ، شاندانہ گلزار اور قیصر علی شاہ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد ان درخواستوں کی سماعت بھی متاثر ہوئی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی بازیابی کے لیے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ یہ درخواستیں بھی کاز لسٹ سے ڈی لسٹ کردی گئی ہیں۔
ان اقدامات کی بنیاد بننے والا وفاقی آئینی عدالت کا حکم چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صوبے بھر میں آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعیناتی کے باعث آرٹیکل 245 کی شق 4 کے تحت متعلقہ کارروائیاں معطل رہیں گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو 7 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے، جس میں بتایا جائے گا کہ صوبے کے کن علاقوں میں مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعیناتی مزید ضروری نہیں رہی۔
عدالت نے قرار دیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے حکم میں تبدیلی پر غور کیا جاسکتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائیں گی۔
مزید پرھیں
نئی درخواستیں بھی وصول کرنے کے بجائے درخواست گزاروں کو ’متعلقہ فورم‘ سے رجوع کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس کیا جائے گا۔
فوج کی تعیناتی اور آرٹیکل 245
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پورے صوبے میں تعینات کرنے کا حکم دیا، جبکہ وزارت دفاع نے 12 اکتوبر کو اس حوالے سے آفس میمورنڈم جاری کیا۔
آرٹیکل 245 کی شق 3 کے مطابق جن علاقوں میں فوج سول انتظامیہ کی مدد کررہی ہو، وہاں ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی اختیارات استعمال نہیں کرسکتی۔
مزید پڑھیں:
اسی آرٹیکل کی شق 4 کے تحت متعلقہ مدت میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر مقدمات کی کارروائی معطل رہنے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔
یہ اقدام وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر کیا گیا جس نے 5 نومبر کو خیبرپختونخوا حکومت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر مقدمات کی کارروائی معطل کردی تھی۔
اس حکم کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے 12 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد دائر آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت تمام رٹ پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔
خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا، جس کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ہو گیا۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال خراب ہونے، دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں صوبائی حکومت کی ناکامی کو فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔
وفاق اور خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلافات بھی شدت اختیار کرچکے تھے۔
پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے کے لیے متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
درخواست گزاروں میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی، خیبرپختونخوا بار کونسل، محسن داوڑ، شاندانہ گلزار اور قیصر علی شاہ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد ان درخواستوں کی سماعت بھی متاثر ہوئی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی بازیابی کے لیے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ یہ درخواستیں بھی کاز لسٹ سے ڈی لسٹ کردی گئی ہیں۔
ان اقدامات کی بنیاد بننے والا وفاقی آئینی عدالت کا حکم چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ صوبے بھر میں آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعیناتی کے باعث آرٹیکل 245 کی شق 4 کے تحت متعلقہ کارروائیاں معطل رہیں گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو 7 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے، جس میں بتایا جائے گا کہ صوبے کے کن علاقوں میں مسلح افواج کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعیناتی مزید ضروری نہیں رہی۔
عدالت نے قرار دیا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے حکم میں تبدیلی پر غور کیا جاسکتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائیں گی۔
مزید پرھیں
نئی درخواستیں بھی وصول کرنے کے بجائے درخواست گزاروں کو ’متعلقہ فورم‘ سے رجوع کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس کیا جائے گا۔
فوج کی تعیناتی اور آرٹیکل 245
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پورے صوبے میں تعینات کرنے کا حکم دیا، جبکہ وزارت دفاع نے 12 اکتوبر کو اس حوالے سے آفس میمورنڈم جاری کیا۔
آرٹیکل 245 کی شق 3 کے مطابق جن علاقوں میں فوج سول انتظامیہ کی مدد کررہی ہو، وہاں ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی اختیارات استعمال نہیں کرسکتی۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید نے جیل سے شوہر کیخلاف خلع کا کیس کر دیا
اسی آرٹیکل کی شق 4 کے تحت متعلقہ مدت میں 12 اکتوبر یا اس کے بعد دائر مقدمات کی کارروائی معطل رہنے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔













اتوار 8 نومبر 2026 