نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارت میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے دوران بعض بیانات اور مہمات پر تنقید سامنے آئی ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے قریب آتے ہی مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ بعض رہنماؤں کے بیانات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ خطاب پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں مذہبی امور سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات سے معاشرتی تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں انتخابی سیاست کے دوران مذہبی اور نسلی معاملات کو اجاگر کرنا ایک حساس مسئلہ ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ خطے میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ سیاست اپنانا ضروری ہے، جبکہ نفرت انگیز بیانیے سے گریز وقت کی اہم ضرورت ہے۔












پیر 6 اپریل 2026 