چاول برآمدات 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا جائے: وزیر بحری امور

Calender Icon منگل 14 اپریل 2026

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے چاول کی برآمدات کو نمایاں حد تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس شعبے میں 10 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے رائس ایکسپورٹرز (exporters)کو یقین دلایا کہ حکومت نہ صرف پالیسی سازی بلکہ بندرگاہی سہولیات کی فراہمی میں بھی ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔

کراچی میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے دورے کے دوران ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کا چاول اس وقت عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے، تاہم درست حکمت عملی اور سہولیات کے ذریعے اسے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احمد بھی ان کے ہمراہ تھے، جہاں بندرگاہی نظام کو مزید مؤثر بنانے اور برآمدکنندگان کو درپیش مسائل کے حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں ملک فیصل جہانگیر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چاول کی صنعت اس وقت تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اسے 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ کاشت کے رقبے میں نمایاں اضافے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پیداوار اور برآمدات دونوں کو بڑھایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے برآمدکنندگان کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ روایتی اہداف سے آگے بڑھ کر 10 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کریں، حکومت اس سفر میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات پاکستان کے لیے نئے تجارتی مواقع لے کر آئے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے بندرگاہوں کو جدید اور سہل بنایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:بیساکھی کی خوشیاں، محنت کا اعتراف اور امید کا پیغام ہے: آصفہ بھؔٹو

انہوں نے مزید بتایا کہ بندرگاہی نظام میں کئی اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں رول آن/رول آف سروس کا آغاز، بلک کارگو کی اجازت، پرانی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس میں آسانی اور ڈیمرج چارجز کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ فیڈر ویسل سروسز کے اجرا اور ایل سی ایل کارگو ہینڈلنگ کی اجازت سے بھی تجارت کو فروغ مل رہا ہے۔

محمد جنید انوار چوہدری نے اس بات کو نمایاں کیا کہ پہلی بار عید کی تعطیلات کے دوران بھی بندرگاہی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں اور 16 جہازوں کو ہینڈل کیا گیا، جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کا حوالہ دیتے ہوئے کراچی پورٹ پر بنکرنگ سروسز کے آغاز کو بھی بڑی پیش رفت قرار دیا، جس سے اربوں روپے کی تجارتی سرگرمیوں کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر جاری ڈریجنگ منصوبہ تین ماہ میں مکمل ہونے کے بعد جہازوں کی آمد و رفت اور سامان کی ترسیل کا وقت نمایاں طور پر کم کر دے گا، جس سے تاجروں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بندرگاہی چارجز میں نمایاں کمی اور دیگر سہولتوں کے باعث کاروباری برادری کو بڑا ریلیف مل رہا ہے۔