برطانیہ کی 12 جامعات میں طلبہ کی نگرانی کا انکشاف، نجی فرم کی خدمات حاصل

Calender Icon منگل 21 اپریل 2026

برطانیہ کی 12 معروف جامعات کی جانب سے طلبہ اور اساتذہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک نجی انٹیلی جنس فرم کی خدمات حاصل کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد تعلیمی آزادی اور پرائیویسی سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق Al Jazeera English اور Liberty Investigates کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ “ہورس سیکیورٹی کنسلٹنسی لمیٹڈ” نامی کمپنی طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی اور خفیہ نوعیت کے سیکیورٹی جائزے تیار کرتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس فرم کو 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ادا کیے جا چکے ہیں، جبکہ کمپنی خود کو ایک معروف انٹیلی جنس ادارہ قرار دیتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نگرانی کا دائرہ کار خاص طور پر ان طلبہ اور اساتذہ تک پھیلا ہوا تھا جو فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان میں ایک فلسطینی اسکالر بھی شامل ہے جسے Manchester Metropolitan University میں بطور مہمان لیکچر مدعو کیا گیا تھا، جبکہ London School of Economics کے ایک پی ایچ ڈی طالبعلم کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔

مزید برآں، اکتوبر 2024 میں University of Bristol کی جانب سے مبینہ طور پر طلبہ کے مختلف احتجاجی گروپس، بشمول فلسطین نواز اور جانوروں کے حقوق کے کارکنان کی فہرست فراہم کی گئی تاکہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی آئی ٹی کمپنی سپرنیٹ گلوبل کا افریقہ میں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی منصوبہ کا کامیاب آغاز

رپورٹ کے مطابق دیگر جامعات جنہوں نے اس فرم کی خدمات حاصل کیں ان میں University of Oxford، Imperial College London، University College London، King’s College London، University of Sheffield، University of Leicester، University of Nottingham اور Cardiff Metropolitan University شامل ہیں۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس سرگرمی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا۔ بعض جامعات نے وضاحت دی ہے کہ وہ ممکنہ خطرات یا بڑے احتجاجی مظاہروں کی پیشگی معلومات حاصل کرنے کے لیے بیرونی خدمات لیتی ہیں، نہ کہ طلبہ کی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے۔

University of Sheffield نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عمل صرف آئندہ پیش آنے والے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے تھا، جبکہ Imperial College London نے اس بات کی تردید کی کہ طلبہ کی نگرانی کی جا رہی تھی۔

دوسری جانب کئی جامعات نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ مذکورہ نجی فرم “ہورس” کی جانب سے بھی بارہا رابطے کے باوجود کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق یہ انکشاف تعلیمی اداروں میں اظہارِ رائے کی آزادی، طلبہ کے حقوق اور پرائیویسی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے، جس پر مزید بحث متوقع ہے۔