ورچوئل ایسٹس کے لیے قانونی فریم ورک جلد تیار ہوگا، چیئرمین بلال بن ثاقب

Calender Icon جمعرات 30 اپریل 2026

اسلام آبادمیںوزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ڈیجیٹل اثاثہ جات(digital assets) کے شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز سے اہم ملاقات کی، جس میں ملک میں تیزی سے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ایسٹس سیکٹر کے ریگولیٹری فریم ورک اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بلال بن ثاقب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت ڈیجیٹل ایسٹس مارکیٹ کو منظم کر کے اسے ملکی معیشت کا اہم ستون بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا جا رہا ہے جو ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل ایسٹس کے لیے جامع قانونی فریم ورک تیار کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیوارا ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کو گرے مارکیٹ سے نکال کر باقاعدہ دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کر کے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔

چیئرمین پیوارا نے بتایا کہ ادارے کو گزشتہ 9 ماہ میں ایک فعال اور خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جو قانون کے تحت لائسنسنگ اور نگرانی کا واحد ذمہ دار ادارہ ہے۔

مزید پڑھیں:نیب اصلاحاتی حکمت عملی میں بڑی پیشرفت، ہزاروں کنال سہولتی اراضی سی ڈی اے کے نام منتقل

ملاقات میں شریک ٹیکنالوجی ماہرین نے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پیوارا کو پاکستان کی معیشت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔