امریکی ایف-35 یا چینی جے-35؟ دفاعی ماہرین کی اہم رائے سامنے آگئی

Calender Icon جمعرات 7 مئی 2026

دنیا کی جدید فضائی طاقت میں پانچویں نسل کے جنگی طیاروں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، جہاں امریکی ایف-35 اور چینی جے-35 کے درمیان تقابل دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دونوں طیارے جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید ریڈار سسٹمز اور مہلک ہتھیاروں سے لیس ہیں، تاہم ان کی صلاحیتوں، قیمت اور عملی استعمال میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

امریکی ساختہ ایف-35 کو دنیا کے جدید ترین ملٹی رول اسٹیلتھ فائٹر طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ طیارہ لاک ہیڈ مارٹن (Lockheed Martin)کمپنی نے تیار کیا اور اسے امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک اپنی فضائیہ کا اہم حصہ بنا چکے ہیں۔ ایف-35 جدید سینسر فیوژن، نیٹ ورک وارفیئر اور انتہائی کم ریڈار سگنیچر جیسی صلاحیتوں کے باعث جدید فضائی جنگ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب چین کا جے-35 نسبتاً نیا جنگی طیارہ ہے جسے مستقبل کی فضائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جے-35 کی تیاری میں رفتار، کم لاگت اور برآمدی امکانات کو خاص اہمیت دی گئی ہے تاکہ چین عالمی اسلحہ مارکیٹ میں امریکا کا مقابلہ کر سکے۔

تکنیکی موازنہ کیا جائے تو ایف-35 جدید الیکٹرانک جنگی نظام، حساس ریڈار اور معلومات کے تبادلے کی صلاحیت میں واضح برتری رکھتا ہے، جبکہ جے-35 رفتار اور ممکنہ طور پر کم آپریٹنگ اخراجات کے باعث توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی طیارہ جنگی تجربے اور عملی استعمال میں کئی برس آگے ہے کیونکہ اسے مختلف عالمی مشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے، جبکہ جے-35 ابھی ترقی اور آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے۔

اسٹیلتھ یا خفیہ صلاحیت کے میدان میں بھی ایف-35 کو سبقت حاصل سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کی ڈیزائننگ اور ریڈار سے بچنے کی ٹیکنالوجی کئی برس کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ تاہم چینی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جے-35 بھی جدید اسٹیلتھ فیچرز سے لیس ہوگا اور خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے۔

دفاعی حلقوں میں پاکستان کے تناظر میں بھی جے-35 پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں پاکستان کو جے-35 طیارے حاصل ہوتے ہیں تو اس سے خطے میں فضائی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ چین کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات کے باعث جے-35 کو پاکستان کے لیے ایک ممکنہ آپشن قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ممالک جدید ترین جنگی طیاروں کی فروخت محدود رکھتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مجموعی طور پر ایف-35 ٹیکنالوجی، تجربے اور الیکٹرانک نظام کے اعتبار سے اب بھی دنیا کے طاقتور ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ جے-35 نسبتاً کم قیمت، رفتار اور ممکنہ برآمدی دستیابی کے باعث ترقی پذیر ممالک کے لیے دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔