روس (Russia) میں دوسری جنگِ عظیم میں فتح کی یاد میں منعقد ہونے والی سالانہ یومِ فتح پریڈ اس بار محدود پیمانے پر منعقد کی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ریڈ اسکوائر میں ہونے والی یہ تقریب روس کی اہم ترین قومی تقریبات میں شمار ہوتی ہے، جہاں سوویت یونین کی نازی جرمنی کے خلاف کامیابی اور جنگ میں جان گنوانے والے تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ سوویت شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ماضی میں یہ پریڈ روسی فوجی طاقت، خاص طور پر جوہری صلاحیت رکھنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور بھاری فوجی سازوسامان کی نمائش کے لیے مشہور رہی ہے، تاہم اس سال تقریب میں ٹینکوں اور روایتی فوجی ہتھیاروں کی بڑی پریڈ دیکھنے میں نہیں آئی۔
پاکستان اور میانمار کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور، سفیر طارق کریم کی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیںمزید پڑھیں؛
اس کے بجائے جدید دفاعی نظام اور اسلحہ بڑی اسکرینوں اور سرکاری ٹی وی نشریات کے ذریعے دکھایا گیا، جن میں یارس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل، آرخانگلسک جوہری آبدوز، پریسویٹ لیزر ہتھیار، Sukhoi Su-57 لڑاکا طیارہ، S-500 فضائی دفاعی نظام اور مختلف ڈرون و توپ خانے کے نظام شامل تھے۔
تقریب میں ایک اور نمایاں پہلو یہ رہا کہ روس کے علاقے کرسک میں یوکرینی افواج کے خلاف لڑنے والے شمالی کوریا کے فوجیوں نے بھی پریڈ میں شرکت کی، جسے مبصرین نے روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے عسکری تعلقات کی علامت قرار دیا۔












ہفتہ 9 مئی 2026 