روس جنگ کے لیے پاکستانی نوجوانوں کی مبینہ بھرتی کا انکشاف، یوکرین کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے

Calender Icon پیر 11 مئی 2026

روس جنگ کیلئے پاکستانی نوجوانوں کی مبینہ بھرتی کا انکشاف۔ ہیومن ٹریفکنگ نیٹ ورک کے ذریعے روس(Russia) لے جا کر یوکرین کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں مبینہ طور پر سرگرم ایک خطرناک ہیومن ٹریفکنگ نیٹ ورک کے ذریعے نوجوانوں کو روس میں پرکشش ملازمتوں کا جھانسہ دے کر یوکرین کے خلاف جنگ میں جنگ میں زبردستی شامل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس حوالے سے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ راولپنڈی سرکل میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے جبکہ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔درخواست گزار منصور اختر جمال نے ایف آئی اے کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ خود ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اور انہیں روس میں قانونی ورک پرمٹ، محفوظ ملازمت اور ماہانہ پانچ سے چھ لاکھ روپے تنخواہ کا لالچ دے کر “کک” کے ویزے پر روس بھجوایا گیا۔

درخواست کے مطابق اس سارے عمل کیلئے ان کے بڑے بھائی محمود اختر جمال کے اکاؤنٹ سے تقریباً 47 لاکھ 50 ہزار روپے ایجنٹ ہشام بن طارق کو ادا کئے گئے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہشام بن طارق نامی شخص اور اس کے مبینہ ساتھی نوجوانوں کو بہتر مستقبل اور بھاری تنخواہوں کا خواب دکھا کر روس بھجواتے ہیں، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔

مزیدپڑھیں:آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم شہباز شریف

منصور اختر جمال کے مطابق روس پہنچنے کے بعد ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ روسی فوج میں شامل ہو کر یوکرین کے خلاف جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔متاثرہ نوجوان کے مطابق انہوں نے خوفزدہ حالت میں اہل خانہ سے رابطہ کیا جس کے بعد گھر والے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گئے۔ بعد ازاں پاکستانی سفارتخانے اور مختلف ذرائع کی مدد سے انہیں بڑی مشکل سے واپس پاکستان لایا گیا

جبکہ اس سارے عمل میں مزید لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑے۔درخواست گزار نے ایف آئی اے کو مختلف بینک ٹرانزیکشنز، آن لائن ادائیگیوں اور مالی ریکارڈ بھی فراہم کر دیا ہے۔ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ راولپنڈی سرکل نے معاملے کی انکوائری نمبر 266/26 درج کر لی تھی جبکہ ابتدائی تحقیقات کی ذمہ داری انسپیکٹر زاہد بھٹی (SHO) کے سپرد کی گئی تھی۔اس حوالے سے جب انسپیکٹر زاہد بھٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا اس کیس سے ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیس سے متعلق مزید تفصیلات اور موجودہ پیش رفت کیلئے محرم نامی متعلقہ افسر سے رابطہ کیا جائے۔ درخواست گزار نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سےمطالبہ کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ مزید نوجوانوں کو ایسے خطرناک جال میں پھنسنے سے بچایا جا سکے۔