اسلام آباد،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ و تعمیرات کا نیب ہیڈکوارٹرز کا دورہ؛ ریکارڈ ریکوری اور آپریشنل اصلاحات کی تعریف سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ و تعمیرات نے چیئرمین سینیٹر ناصر محمود (sanater nasir mehmood)کی قیادت میں آج قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہیڈکوارٹرز کا اہم دورہ کیا تاکہ بیورو کی کارکردگی، خصوصاً ہاؤسنگ سیکٹر میں اس کے حاصل شدہ اہداف کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سینیٹر خالدہ عتیق، سینیٹر حسنیٰ بانو، سینیٹر جان محمد اور سینیٹر نسیمہ احسان کے ساتھ ساتھ وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے کمیٹی کو بیورو میں لائی گئی اصلاحات اور وائٹ کالر کرائم کے خلاف حالیہ کامیابیوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
ان کی معاونت ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ ، ڈی جی نیب( راولپنڈی /اسلام آباد) وقار احمد چوہان اور ڈی جی سپیشل انوسٹی گیشن ڈویژن (SID)، محمد طاہر نے کی جنہوں نے حالیہ تحقیقات اور قانونی اصلاحات پر بریفنگ دی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیب کی ساکھ اور کارکردگی بڑھانے کے لیے اہم ساختی تبدیلیاں لائی گئی ہیں جن میں ایک مرکزی شکایتی سیل کا قیام بھی شامل ہے تاکہ ابتدائی مرحلے پر ہی الزامات کی سچائی پرکھی جا سکے۔
جھوٹی شکایات کی حوصلہ شکنی سے اب نیب میں سچی رپورٹنگ بڑھ گئی ہے اور خوف کا ماحول ختم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹیرینز، بیوروکریسی اور نجی شعبے کے لیے الگ سہولتی مراکز بنائے گئے ہیں تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور معاشی حالات بہتر ہوں۔
نیب کی نئی حکمت عملی میں جدید ٹیکنالوجی کے تحت تحقیقات کو تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے مدد لی جا رہی ہے۔ بیورو نے اندرونی احتساب کے نظام کو بھی بہتر بنایا ہے اور عالمی سطح پر سعودی عرب، ملائیشیا ا،نائیجیریا اور دیگر ممالک کے انسدادِ کرپشن اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدے کیے ہیں۔
اجلاس کے دوران ریکوری کے غیر معمولی اعداد و شمار بھی سامنے آئے جن کے مطابق جون 2023 سے مارچ 2026 کے درمیان نیب نے مجموعی طور پر 14.485 ٹریلیون روپے (تقریباً 51.73 ارب ڈالر) برآمد کیے۔ اس بڑی رقم میں 14 ٹر یلیون روپے مالیت کی 49 لاکھ ایکڑ سے زیادہ سرکاری اور جنگلاتی اراضی کی واپسی بھی شامل ہے۔
نیب نے ہاؤسنگ اور مالیاتی فراڈ کے ایک لاکھ 29 ہزار سے زائد متاثرین کو 223.94 ارب روپے واپس کیے۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ 127 ارب روپے کے اثاثوں والے 39 بڑے کیسز پر کام جاری ہے جن میں سے 85.4 ارب روپے پہلے ہی منجمد کیے جا چکے ہیں۔
سوال و جواب کے سیشن میں کمیٹی کے ممبران نے سرکاری اور نجی ہاؤسنگ منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی ۔ چئیرمین نیب نے کمیٹی کو بتایا کہ ہاوسنگ سیکٹر میں جدید اصلاحات لائی جار رہی ہیں جس سے یہ سیکٹر ترقی کرے گا اور بد عنوانی کے امکانات میں واضح کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں:گرمیوں کی چھٹیوں میں اسکولوں کو سمر کیمپس کی اجازت دینے کا فیصلہ،رانا سکندر حیات
دورے کے اختتام پر سینیٹر ناصر محمود نے نیب کی شفافیت کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہاؤسنگ منصوبوں کو استحصال سے پاک رکھا جائے گا اور بدعنوانی میں ملوث تمام افراد کا قانون کے مطابق سخت احتساب کیا جائے گا۔













منگل 12 مئی 2026 
