سائنس فکشن کہانیوں سے تربیت اے آئی کو حقیقی خطرہ بنا سکتی ہیں، کمپنی کا خدشہ

Calender Icon منگل 12 مئی 2026

برسوں سے سائنس فکشن(Science fiction films) ناولوں اور فلموں میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے ایسی قاتل مشینیں تیار ہوسکتی ہیں جو انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گی۔

آسان الفاظ میں ولن اے آئی کو انسانیت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔اب اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے معروف کمپنی انتھروپک نے اس حوالے سے دلچسپ بیان جاری کیا ہے۔

اس کمپنی نے کچھ ایسا خیال پیش کیا ہے جو کسی سائنس فکشن ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا ہے۔کمپنی کے محققین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لارج لینگوئج ماڈلز انسانوں کو سنائی جانے والی کہانیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس کے پیچھے یہ خیال چھپا ہے کہ ان لارج لینگوئج ماڈلز کو انسانوں کے تحریر کردہ ڈیٹا سے تربیت دی جاتی ہے۔اس تربیتی ڈیٹا میں وہ سائنس فکشن خیالات بھی موجود ہوتے ہیں جن میں فرضی اے آئی سسٹمز کے ہاتھوں تباہی کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

انتھروپک کے محققین کو خدشہ ہے کہ یہ حقیقی اے آئی ماڈلز ان سائنس فکشن خیالات کی آزمائش نہ شروع کر دیں۔کمپنی کے محققین کی جانب سے اب یہ تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ اگر فرضی اے آئی رویوں کا ڈیٹا حقیقی اے آئی ماڈلز کا حصہ بنایا جائے تو وہ کیا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکی حملے کی صورت 90 فیصد یورینیم افزودگی آپشن ہوگا، ایران

ان کے خیال میں اے آئی سسٹمز سائنس فکشن کو انسانوں کی طرح نہیں سمجھتے بلکہ وہ الفاظ، رویوں اور تناظر سے سیکھتے ہیں اور اس طرح وہ فرضی کہانیوں کو حقیقت سمجھ کر اس کی آزمائش بھی کرسکتے ہیں۔