وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (SMEs) کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سمیڈا اور متعلقہ اداروں نے وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں ملکی معیشت کی ترقی اور برآمدات میں اضافے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
حکومتی اقدامات اور پیش رفت
اجلاس میں بتایا گیا کہ سمیڈا اور وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے تیار کردہ روڈ میپ کے تحت 8 اسٹریٹجک شعبوں میں 48 اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے۔ یہ اقدامات آئندہ دو سے چار سال کے دوران مرحلہ وار اہداف حاصل کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران روڈ شوز، نمائشوں اور مارکیٹ لنکیجز کے ذریعے SMEs کو مقامی اور برآمدی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بینکوں کے ذریعے آسان اور کم لاگت قرضوں کی فراہمی، وینڈر پروفائلنگ اور SME ڈیٹا بیس کے قیام جیسے اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ معیشت کو زیادہ رسمی بنایا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:کانز فلم فیسٹیول میں عالیہ بھٹ کوشرمندگی کاسامنا
قرضوں اور مالیاتی سہولتوں میں اضافہ
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال میں نجی شعبے کو 1.1 ٹریلین روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی تین سہ ماہیوں میں ہی 904 ارب روپے کا ہدف عبور کر لیا گیا ہے۔ ان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2028 تک SMEs کے لیے قرضوں کا ہدف 1100 ارب روپے سے بڑھا کر 1500 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمرشل بینکوں کو ترغیبات دینے اور فنانسنگ میں آسانی پیدا کرنے کے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
برآمدات اور نئی سہولتیں
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر SMEs کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ کی علیحدہ ونڈو قائم کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 41 نئی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے شمولیت اختیار کی ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مقامی صنعتوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
خواتین اور زرعی شعبے کی شمولیت
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زراعت کے پراسیسنگ سیکٹر کو بھی SMEs کا حصہ بنایا جائے اور خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت کو مزید فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے آسان قرضوں اور برآمدی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے تاکہ وہ معاشی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اعلیٰ سطحی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزراء، معاون خصوصی ہارون اختر، اسٹیٹ بینک کے گورنر، سمیڈا کی سی ای او اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے مجموعی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام اہداف کے لیے واضح اور قابل عمل ٹائم لائنز کے ساتھ جامع روڈ میپ پیش کیا جائے۔













بدھ 13 مئی 2026 
