رواں مالی سال بھی حکومت کے اخراجات آمدنی سے تجاوز(expenditures are above incom) کر گئے۔ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 856 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ صوبائی سرپلس کی وجہ سے مالی خسارہ 541 ارب تک لانے میں مدد ملی۔
دستاویز کے مطابق جولائی تا مارچ مجموعی حکومتی آمدن 14 ہزار 799 ارب رہی، اس دوران مجموعی اخراجات 15 ہزار 665 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔
ایف بی آر نے 9 ماہ میں 10 ہزار 166 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، نان ٹیکس ریونیو کی مد میں عوام سے ایک ہزار 205 ارب سے زائد لیوی وصول کی گئی، گزشتہ سال کے مقابلےلیوی وصولی میں 371 ارب 33 کروڑ روپےکا اضافہ ہوگیا۔ پچھلے مالی سال اسی مدت میں لیوی کی مد میں 834 ارب وصول کیے گئے۔
پہلے 9 ماہ میں قرضوں پر سود کی مد میں 4 ہزار 947 ارب روپے خرچ ہوگئے، جولائی تا مارچ 9 ماہ میں پرائمری سرپلس 4 ہزار 91 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 856 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے گئے۔
مزید پڑھیں:حکومت نے فضائی حادثات میں مسافروں کا معاوضہ 2کروڑ، ادائیگی 30دن میں لازمی قراردیدی
جولائی تا مارچ دفاع پر 1690 ارب،ترقیاتی منصوبوں پر 551 ارب خرچ ہوگئے، اس دوران پنشن کی ادائیگی پر 754 ارب، سبسڈیز پر632 ارب روپے خرچ ہوئے، این ایف سی کے تحت صوبوں کو 5 ہزار 630 ارب روپے فنڈز فراہم کیے گئے۔













بدھ 13 مئی 2026 
