حکومت سندھ (Government of Sindh) نے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے 500 نئی الیکٹرک (ای وی) بسوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بسیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائی جائیں گی تاکہ شہریوں کو جدید، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن نصیر احمد نے منگھوپیر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام طویل عرصے سے سفری مشکلات کا شکار ہیں اور وہاں فوری طور پر بس سروس شروع کی جانی چاہیے۔
اس موقع پر سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے ایوان کو بتایا کہ حکومت مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے۔ ان کے مطابق اورنگی، بنارس اور دیگر علاقوں میں نئی بس سروسز شروع کی جائیں گی جبکہ تین نئے روٹس پر بھی جلد بسیں چلائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں؛جون کیلئے خام تیل، ڈیزل اور جیٹ فیول کا اسٹریٹجک بندوبست
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے صوبے میں بسوں کا نیٹ ورک بڑھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ٹنڈو الہ یار، خیرپور اور روہڑی میں نئے روٹس متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ کراچی میں گلشنِ معمار سے بھی ایک نیا روٹ شروع کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن معاذ محبوب نے اسمبلی میں گٹکا، ماوا اور منشیات کی کھلے عام فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ کاروبار بعض مقامات پر پولیس کی سرپرستی میں جاری ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو اپنے حلقے کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود نشاندہی کریں گے کہ کہاں کہاں یہ غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اس پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت گٹکا اور ماوا کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔












پیر 18 مئی 2026 