طالبان رجیم میں افغانستان سے جوہری دہشت گردی کا خطرہ،اقوامِ متحدہ کاانتباہ

Calender Icon بدھ 20 مئی 2026

اقوامِ متحدہ (United Nations)کے انسدادِ دہشت گردی مرکز نے اپنی تازہ رپورٹ میں افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے، جن میں تابکار مواد کے غلط ہاتھوں میں جانے کا خدشہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود بعض شدت پسند نیٹ ورکس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر غیر محفوظ تابکار یا حساس مواد تک ان کی رسائی ہو جائے تو خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے خاص طور پر یورینیم ڈائی آکسائیڈ سے متعلق ایک واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں مبینہ طور پر چوری شدہ مواد کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی حکام نے کہا ہے کہ جوہری یا تابکار مواد سے متعلق دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس پر عالمی سطح پر مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی مختلف علاقوں سے ایسے مواد کی اسمگلنگ یا چوری کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:مودی کے کھوکھلے دعوؤں پر کھڑی معیشت کی حقیقت عیاں،بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، کمزور ادارہ جاتی نگرانی اور غیر مستحکم حالات ایسے خدشات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس کے باعث خطے کے ممالک کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

 اگرچہ ایسے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے، تاہم ان کی نوعیت اور دائرہ کار کے حوالے سے حتمی نتائج اخذ کرنے کے لیے مزید تصدیق شدہ معلومات اور مسلسل نگرانی درکار ہے۔