ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر مہنگائی کی نئی لہر آنے کا امکان ہے، کیونکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 1 روپے 72 پیسے اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے۔
اس درخواست پر 2 جون کو سماعت ہوگی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ مجوزہ اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے دوران مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کی گئی، جن میں ایٹمی توانائی کا حصہ سب سے زیادہ 22.07 فیصد رہا، جبکہ پانی سے 21.89 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔ مقامی کوئلے سے 15.61 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 14.14 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ اسی طرح مقامی گیس سے 10.49 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 4 فیصد اور فرنس آئل (آر ایف او) سے 5.11 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق سولر توانائی کا حصہ صرف 1.17 فیصد رہا، جبکہ ٹرانسمیشن لاسز کی مد میں 1.95 فیصد بجلی ضائع بھی ہوئی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان وفاقی بجٹ 2026-27 مذاکرات آخری مرحلے میں داخل
فیول لاگت میں اضافے اور بجلی کی پیداوار کے مہنگے ذرائع پر انحصار کی وجہ سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ اگر نیپرا نے درخواست منظور کرلی تو صارفین کو آئندہ بجلی بلوں میں اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔












بدھ 20 مئی 2026 