گرمی سے بچنے کیلئے مہنگا اے سی ضروری نہیں، گھر میں اپنا اے سی خود بنائیں

Calender Icon ہفتہ 23 مئی 2026

موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی شدید گرمی سے بچنے کیلئے لوگ اے سی(Air conditioners) کا سہارا لیتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے مہنگے اے سی پر ہزاروں روپے خرچ کرنا ضروری نہیں۔ چند سادہ اور کم خرچ گھریلو طریقے بھی گرمی میں نمایاں ریلیف دے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پردے لگانے، کھڑکیوں اور دروازوں کے سوراخ بند کرنے اور مناسب وینٹیلیشن جیسے طریقے نہ صرف مؤثر ہیں بلکہ ان پر زیادہ خرچ بھی نہیں آتا۔ بعض اقدامات تو 100 ڈالر سے بھی کم لاگت میں کیے جا سکتے ہیں جبکہ کئی مکمل طور پر مفت ہیں۔

گھر میں خود اے سی بنانے کا آسان طریقہ

ماہرین نے گھریلو اشیا سے عارضی کولنگ سسٹم تیار کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ اس کیلئے اسٹائروفوم کولر یا پانچ گیلن پلاسٹک بالٹی استعمال کی جا سکتی ہے۔

سب سے پہلے کولر یا بالٹی کے ایک طرف دو یا تین سوراخ کیے جائیں۔ پھر ان سوراخوں میں چھوٹے پی وی سی پائپ فٹ کیے جائیں۔ بعد ازاں ڈھکن پر ایک چھوٹا پورٹیبل پنکھا نصب کیا جائے تاکہ ہوا اندر سے گزر کر باہر نکل سکے۔

اس کے بعد اندر برف سے جمی ہوئی پانی کی بوتلیں رکھ دی جائیں۔ پنکھا چلانے پر ٹھنڈی ہوا پائپوں کے ذریعے باہر نکلتی ہے اور کمرے کو نسبتاً ٹھنڈا محسوس کراتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مکمل اے سی کا متبادل تو نہیں لیکن کمروں، ہاسٹل یا بجلی بچانے کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

گھر ٹھنڈا رکھنے کے دیگر سستے طریقے

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کو گھر میں داخل ہونے سے روکنا سب سے مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے اطراف معمولی خلا بھی گرم ہوا اندر آنے دیتے ہیں، اس لیے ان جگہوں کو سیل کرنا ضروری ہے۔

مزیدپڑھیں:وزیر اعظم محمد شہباز شریف چار روزہ دورہ چین کے پہلے مرحلے میں ہانگژو روانہ ہو گئے

موٹے پردے لگائیں

گہرے یا تھرمل پردے سورج کی شعاعوں کو اندر آنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر جنوب یا مغرب کی سمت والی کھڑکیوں پر موٹے پردے لگانے سے اندرونی درجہ حرارت میں 2 سے 10 ڈگری تک کمی ممکن ہے۔

کھڑکیاں مناسب وقت پر کھولیں

ماہرین کے مطابق رات یا صبح سویرے مخالف سمتوں کی کھڑکیاں کھولنے سے کراس وینٹیلیشن پیدا ہوتی ہے، جس سے گرم ہوا باہر نکلتی اور ٹھنڈی ہوا اندر آتی ہے۔

نائٹ فلشنگ طریقہ

رات کے وقت کھڑکیاں کھول کر پنکھوں کے ذریعے دن بھر جمع ہونے والی گرم ہوا باہر نکالی جا سکتی ہے۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے کھڑکیاں بند کر دی جائیں تاکہ ٹھنڈی ہوا اندر محفوظ رہے۔

دن میں گرمی پیدا کرنے والے آلات کم استعمال کریں

اوون، ڈرائر اور ڈش واشر جیسے آلات گھر کے اندر گرمی بڑھاتے ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کھانا صبح جلدی پکایا جائے یا مائیکروویو اور آؤٹ ڈور گرل استعمال کی جائے، جبکہ کپڑے دھونے اور برتن صاف کرنے کا کام رات میں کیا جائے۔

دیواروں کی انسولیشن

وہ دیواریں جن پر براہِ راست دھوپ پڑتی ہے، ان میں انسولیشن کرانے سے گرمی کا داخلہ کم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ نسبتاً مہنگا حل ہے لیکن طویل مدت میں بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق DIY طریقے بجلی کی بچت ضرور کرتے ہیں لیکن یہ نمی اور شدید گرمی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے جیسا کہ روایتی اے سی کرتا ہے۔ اس لیے بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ کم خرچ گھریلو طریقوں کو مناسب حد تک اے سی کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ گھر بھی ٹھنڈا رہے اور بجلی کا بل بھی قابو میں رہے۔