بہتر روزگار(Better employment) اور معاشی مواقع کی تلاش میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بیرون ملک کا رخ کیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں تقریباً ڈھائی لاکھ پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مختلف ممالک منتقل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک جانے والے افراد میں بڑی تعداد مزدور طبقے کی ہے، جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پیشہ ور افراد بھی روزگار کیلئے ملک چھوڑ گئے جن میں ایک ہزار سے زائد ڈاکٹرز، دو ہزار انجینئرز، 1600 سے زائد اکاؤنٹنٹس اور 500 سے زائد آئی ٹی ماہرین شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب بدستور پاکستانی افرادی قوت کی سب سے بڑی منزل رہا، جہاں ایک لاکھ 36 ہزار 488 پاکستانی گئے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی پاکستانی ورکرز کی بڑی تعداد پہنچی، جبکہ یو اے ای جانے والوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:سکستھ روڈ اسٹیشن پر میٹرو بس میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا
ماہرین کے مطابق یہ رجحان ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے اہم سوالات بھی اٹھا رہا ہے، کیونکہ ہنر مند افراد کی بڑی تعداد بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک سے باہر جا رہی ہے۔












ہفتہ 23 مئی 2026 