ایران جنگ کی ’مخالف‘ اور پاکستان کی ناقد امریکی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گبارڈ اچانک مستعفی

Calender Icon ہفتہ 23 مئی 2026

امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ(Tulsi Gabbard) نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف رکھنے والی گبارڈ نے اپنے استعفے کی بنیادی وجہ اپنے شوہر ابراہم کی سنگین بیماری کو قرار دیا ہے، جنہیں حال ہی میں ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔

جمعے کے روز جاری کیے گئے اپنے جذباتی استعفے میں تلسی گبارڈ نے کہا کہ ان کے شوہر نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور اب ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ انہیں اس مشکل مرحلے میں تنہا چھوڑ کر اپنی ذمہ داریوں میں مصروف رہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ان کے شوہر آنے والے مہینوں میں ایک بڑی جنگ لڑنے جا رہے ہیں اور وہ اس دوران ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گبارڈ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے شاندار خدمات انجام دیں اور انتظامیہ کو ان کی کمی محسوس ہوگی۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ گبارڈ کا استعفیٰ 30 جون سے مؤثر ہوگا جبکہ پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر ایرون لوکاس قائم مقام نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

تلسی گبارڈ 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم حامیوں میں شامل تھیں۔ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے چند ہفتوں بعد ہی انہیں امریکی انٹیلیجنس نظام کے سب سے طاقتور عہدوں میں شمار ہونے والے نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے منصب پر تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم رواں سال وہ عوامی سطح پر نسبتاً کم متحرک نظر آئیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ ایران، کیوبا اور وینزویلا کے حوالے سے جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا تھا۔

مزیدپڑھیں:سونے کی عالمی و مقامی قیمتوں میں بڑی کمی، چاندی مستحکم

پاکستان کے حوالے سے تلسی گبارڈ کا مؤقف ہمیشہ سخت تصور کیا جاتا رہا ہے۔ مارچ میں امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں انہوں نے پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا تھا جو مستقبل میں امریکہ کے لیے نمایاں سکیورٹی خطرہ بن سکتے ہیں۔

گبارڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تیزی سے جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے اور مستقبل میں اس کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک صلاحیتیں امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ پاکستان کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ممالک ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کے لیے جدید میزائل نظام تیار کر رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب گبارڈ نے پاکستان پر تنقید کی ہو۔ ماضی میں بھی وہ پاکستان پر دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ 2017 میں انہوں نے اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے معاملے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ حافظ سعید کی رہائی پر بھی سخت ردعمل دیا تھا۔

2019 میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک پاکستان دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا رہے گا، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں تناؤ برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

تلسی گبارڈ ٹرمپ کابینہ چھوڑنے والی چوتھی اہم شخصیت ہیں۔ اس سے قبل لیبر سیکریٹری لوری شاویس ڈی ریمر، ہوم لینڈ سیکیورٹی وزیر کرسٹی نوم اور اٹارنی جنرل پام بانڈی بھی انتظامیہ سے الگ ہو چکے ہیں۔

ایران کے معاملے پر بھی گبارڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ وہ ماضی میں امریکہ کی بیرونی جنگی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے صدر ٹرمپ کے ایران سے متعلق فیصلوں کی حمایت بھی کی۔

تلسی گبارڈ کی سیاسی زندگی بھی غیر معمولی رہی ہے۔ وہ عراق میں خدمات انجام دینے والی سابق فوجی رہ چکی ہیں اور صرف 21 برس کی عمر میں امریکی ریاست ہوائی کی اسمبلی کی رکن منتخب ہو کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔ بعد ازاں وہ امریکی کانگریس کی پہلی ہندو خاتون رکن بنیں اور 2013 سے 2021 تک ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرتی رہیں۔

2020 میں انہوں نے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ بعد میں وہ ریپبلکن پارٹی میں شامل ہو گئیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مضبوط حامی بن کر ابھریں۔ نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے طور پر ان کی قیادت میں امریکی انٹیلیجنس اداروں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور عملے میں کمی کے منصوبے بھی سامنے آئے۔