غزہ (Gaza) کے لیے امدادی مشن “صمود فلوٹیلا” میں شامل سعد ایدھی اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد کراچی واپس پہنچ گئے، جہاں ان کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرجوش استقبال کیا گیا۔ استقبال کے موقع پر ان کی اہلیہ اور کم عمر بیٹی بھی موجود تھیں۔
کراچی پہنچنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سعد ایدھی نے بتایا کہ ان کا سفر 14 مئی کو شروع ہوا تھا اور وہ غزہ سے تقریباً 200 ناٹیکل مائل کے فاصلے پر تھے جب اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی سمندر میں ان کے قافلے کو روکا اور انہیں حراست میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ قافلے میں تقریباً 180 افراد شامل تھے، جن میں سے کئی کو دورانِ حراست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق کچھ افراد زخمی ہوئے جبکہ قافلے کو کئی دن تک بحری اور بعد ازاں زمینی حراست میں رکھا گیا۔
مزید پڑھیں؛بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، اہم خارجی کمانڈر سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
سعد ایدھی کے مطابق دورانِ حراست انہیں بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا، کھانے پینے میں محدود اشیا فراہم کی گئیں اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا بھی رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مسلسل نگرانی میں رکھا گیا اور بعض اوقات آرام کرنے سے بھی روکا جاتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا مشن مکمل طور پر انسانی امداد پر مبنی تھا، جس کا مقصد غزہ کے متاثرہ اور بھوکے عوام تک خوراک اور ادویات پہنچانا تھا۔
سعد ایدھی نے یہ بھی کہا کہ قید کے دوران سخت حالات کا سامنا رہا، تاہم وہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے اور مستقبل میں بھی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے حل اور متاثرہ عوام کی مدد کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔












ہفتہ 23 مئی 2026 