پنجاب میں زرعی ٹیکس نوٹیفکیشنز کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی چیلنج دائر

Calender Icon ہفتہ 23 مئی 2026

پنجاب میں زرعی ٹیکس (Agricultural tax) کے نام پر مبینہ آئینی خلاف ورزیوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک بڑا آئینی چیلنج دائر کر دیا گیا ہے۔

درخواست جوڈیشل ایکوٹیزم پینل اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنماؤں علی امتیاز وڑائچ اور محمد اعجاز شفیع کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے اسمبلی کی باقاعدہ منظوری کے بغیر زرعی ٹیکس سے متعلق اقدامات نافذ کیے، جو آئینی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے مبینہ طور پر آئینی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کسانوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا ہے، جبکہ ٹیکس سے متعلق فیصلے اسمبلی کی نگرانی کے بغیر کیے گئے۔

مزید پڑھیں؛گندم کی نقل و حرکت پر پابندیاں تشویشناک ہیں، فیصل کریم کنڈی

مزید مؤقف میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت کیے گئے اقدامات کو آئین پر ترجیح نہیں دی جا سکتی، اور کسی بھی ٹیکس پالیسی کے لیے آئینی تقاضوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ زرعی ٹیکس میں اضافے کے تمام نوٹیفکیشنز کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور مبینہ طور پر وصول کیے گئے اربوں روپے کسانوں کو واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے ہونے والی تمام خط و کتابت کو عوام کے سامنے لایا جائے اور زرعی ٹیکس نظام کی آئینی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے کسانوں پر غیر منصفانہ بوجھ پڑا ہے اور یہ اقدامات بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

عدالت سے مزید کہا گیا ہے کہ زرعی ٹیکس میں کسی بھی اضافے کو اسمبلی کی باقاعدہ منظوری سے مشروط کیا جائے اور تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کیا جائے۔