کراچی میں پانی بحران پر سندھ اسمبلی میں ہنگامہ، ایم کیو ایم کا شدید احتجاج

Calender Icon پیر 25 مئی 2026

ایم کیو ایم پاکستان (MQM Pakistan) کے ارکان نے سندھ اسمبلی میں کراچی میں پانی کی شدید قلت اور بندش کے خلاف بھرپور احتجاج کیا، جس کے باعث ایوان میں شدید شور شرابا دیکھنے میں آیا۔

اجلاس ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت جاری تھا کہ اسی دوران ایم کیو ایم ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور “کراچی کو پانی دو” کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

ڈپٹی اسپیکر نے ارکان کو یقین دلایا کہ سوالات و جوابات کے بعد پانی کے مسئلے پر بات کی جائے گی، تاہم احتجاج کرنے والے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ پانی کا بحران فوری توجہ کا متقاضی ہے اور اس پر پہلے گفتگو ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں؛نقیب اللہ قتل کیس: راؤ انوار کے خلاف اپیلوں میں اہم پیش رفت

بعد ازاں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہری شدید پانی بحران کا شکار ہیں اور کئی علاقوں میں لوگ بنیادی ضرورت کے لیے بھی پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلشنِ اقبال، اورنگی اور دیگر علاقوں میں پانی ناپید ہے، جبکہ شہری ٹینکرز کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول کراچی اس وقت “کربلا کا منظر” پیش کر رہا ہے۔

دوسری جانب ضیا لنجار نے کہا کہ حکومت پانی کے مسئلے سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کے حل کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں کے فور منصوبہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے اور حکومت کراچی میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں؛کوئٹہ: جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق

اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے بھی سیوریج اور نکاسی آب کے مسائل اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی علاقوں میں گندا پانی جمع ہونے سے شہری شدید مشکلات میں ہیں، خصوصاً عیدالاضحیٰ سے قبل صورتحال مزید تشویشناک ہو رہی ہے۔

بعد ازاں ناصر حسین شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ منصوبوں پر کام جاری ہے اور جلد مسائل کے حل کی کوشش کی جائے گی۔