افغان طالبان (Afghan Taliban) کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے ماسکو کے دورے کے بعد کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ مستقبل میں پاکستان افغانستان کی سرزمین پر فضائی کارروائیاں کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
کابل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، اور اب افغان حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
ملا یعقوب حالیہ دنوں ماسکو میں ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورم میں شریک ہوئے تھے، جہاں افغانستان اور روس کے درمیان دفاعی اور تکنیکی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران فضائی دفاعی نظام اور فوجی سازوسامان کی فراہمی سے متعلق معاملات زیر بحث آئے، تاہم واپسی پر افغان وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ روس کے ساتھ معاہدہ بنیادی طور پر فوجی تکنیکی تعاون اور موجودہ سازوسامان کی مرمت و دیکھ بھال تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی فوجی ضروریات زیادہ تر روسی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں، اس لیے ہیلی کاپٹروں اور دیگر آلات کی دیکھ بھال اور بہتری کے لیے تکنیکی تعاون ناگزیر ہے۔
ملا یعقوب کے مطابق مستقبل میں فضائی دفاعی نظام کے حوالے سے مزید مشاورت کی ضرورت ہے، اور مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں؛پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں، محمود اچکزئی
ماسکو میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران روسی حکام نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا اور خطے میں سکیورٹی تعاون کو اہم قرار دیا۔
روس اور طالبان حکومت کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں اضافہ ہوا ہے، اور ماسکو نے کابل میں اپنا سفارتی رابطہ برقرار رکھا ہے جبکہ توانائی اور خوراک کے شعبوں میں بھی تعاون جاری ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور عسکری الزامات کے تبادلے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔












ہفتہ 30 مئی 2026 