پوری سکھ کمیونٹی کو شیطان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے: دوبندر جیت سنگھ

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

یو کے سکھ فیڈریشن کے سرکردہ رہنما دوبندر جیت سنگھ نے کہا ہے کہ ایک سکھ نے کرپان کے ذریعے یونیورسٹی کے طالبِ علم (University student)کو قتل کرنے کے بعد پوری سکھ کمیونٹی کو شیطان بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں وکرم ڈگوا کو ہینری نوواک کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا اور اسے پیر کو سزا سنائی جائے گی، طالبِ علم کا قتل اس کرپان سے کیا گیا جو سکھ مذہبی طور پر اپنے ساتھ رکھنے کے پابند ہوتے ہیں۔

دوبندر جیت سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس واقعے کے بعد سکھوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہو گیا ہے اور انہوں نے ہوم سیکریٹری شبانہ محمود سے اپیل کی ہے کہ وہ یہودیوں اور مسلمانوں کی طرح سکھوں کے خلاف جرائم کا بھی ریکارڈ رکھا جائے۔

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے بھی برطانیہ میں خنجر رکھنے کے قانون پر تنقید کی ہے، سکھ فیڈریشن کے مطابق ڈگوانے حملے میں جو ہتھیار استعمال کیا، وہ مذہبی طور پر سکھوں کے زیرِ استعمال ہتھیار سے بڑا تھا۔

مزید پڑھیں:چاند پر شہر بسانے کا خواب؟ ناسا کا 20 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان

ریفارم یو کے کے رہنما رابرٹ جینرک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت عوامی مقامات پر خنجر رکھنے پر پابندی لگانے کی کوشش کرے گی۔