بالی ووڈ کے سپر اسٹار Salman Khan کی قانونی ٹیم نے ایک نئی متنازع فلم ”کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیس“ کے خلاف قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فلم مبینہ طور پر کالے ہرن کے مشہور کیس پر مبنی ہے، جس سے متعلق قانونی معاملات کا سامنا سلمان خان کو ماضی میں بھی رہا ہے۔ قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ فلم میں اس کیس کی کہانی اور کرداروں کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جو قانونی اور ذاتی نوعیت کے معاملات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
نوٹس میں فلم کے پروڈیوسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر فلم کی تشہیر، ٹریلرز اور پوسٹرز کو روکیں اور پہلے سے جاری کیے گئے تمام پروموشنل مواد کو بھی ہٹایا جائے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے اس نوٹس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے تخلیقی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فلم حقیقی واقعات سے متاثر ایک ڈرامائی کہانی ہے اور اسے کسی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
مزیدپڑھیں:تائیوان کا ٹی34 تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دو پائلٹ ہلاک
پروڈیوسر کا مزید کہنا ہے کہ وہ اس قانونی نوٹس سے مرعوب نہیں ہوں گے اور فلم کی تیاری اور ریلیز کے عمل کو جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد صرف ایک سچ پر مبنی کہانی کو پیش کرنا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ امیت جانی کسی متنازع موضوع پر فلم بنا رہے ہوں، اس سے قبل بھی وہ مختلف حقیقی واقعات سے متاثر پروجیکٹس پر کام کر چکے ہیں۔
اس نوعیت کے مقدمات میں عدالتیں اکثر اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ آیا فلم کسی فرد کی پرائیویسی، ساکھ یا زیرِ التوا عدالتی معاملات پر اثر انداز تو نہیں ہو رہی۔












منگل 2 جون 2026 