مسیحی برادری کے نمائندہ وفد نے وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ(Azam Nazir Tarar) اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ (Ata Tarar)سے ملاقات کی، جس میں اقلیتوں کے حقوق، قانونی اصلاحات اور برادری کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ، موجودہ قوانین کے نفاذ اور پالیسی اصلاحات کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ وفد نے حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور حالیہ قانون سازی خصوصاً چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کا خیرمقدم کیا۔
وفد نے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے ذریعے اقلیتوں کے تحفظ اور مساوی مواقع کے فروغ کے لیے حکومتی کاوشوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
ملاقات کے دوران مسیحی برادری کو درپیش مسائل، مسیحی پرسنل لاز سمیت دیگر قانونی معاملات کے حل اور متعلقہ پالیسیوں کے ذریعے ان ضروریات کے بہتر احاطے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ فریقین نے سفارشات کے جائزے اور مؤثر طریقۂ کار وضع کرنے کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
مزیدپڑھیں:آصف زرداری سے غوث بخش مہر اور شہریار مہر کی ملاقات،سندھ کی سیاسی صورتحال پر گفتگو
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جامع قانونی اور پالیسی اصلاحات کے لیے مشاورتی عمل نہایت اہمیت رکھتا ہے جبکہ حکومت آئین کے مطابق تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور یکساں مواقع کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور پالیسی سازی میں تمام برادریوں کی رائے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ایسے معاشرے کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جہاں ہر شہری بلاامتیاز قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔












جمعرات 4 جون 2026 