پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑے اقتصادی معاہدے طے پا گئے

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

پاکستان(pakistan) اور سعودی عرب(saudiarabia) نے اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) شراکت داری کو مضبوط بنانا اور پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تیز کرنا ہے۔

یہ پیش رفت پاک۔سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے دو روزہ اجلاس کے دوران سامنے آئی، جو اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور جوائنٹ بزنس کونسل کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں انفرااسٹرکچر، بندرگاہوں، موٹر ویز، رئیل اسٹیٹ اور معدنیات سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پر اتفاق کیا گیا۔

حکام کے مطابق طے پانے والے معاہدوں میں بندرگاہوں کی ترقی اور موٹر وے انفرااسٹرکچر کے منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں طویل عرصے سے زیر التوا حیدرآباد-کراچی موٹر وے کی تعمیر سے متعلق پیش رفت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ خطے میں لاجسٹکس اور تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک رابطہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور معدنیات کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر معاہدے طے پائے ہیں، جو پاکستان کے قدرتی وسائل اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔

معاہدوں پر دستخط سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز کی موجودگی میں کیے گئے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت گوہر اعجاز اور پاکستان سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین فواد مختار نے کی۔

مزیدپڑھیں:ٹیلی نار پاکستان ایزی پیسہ فروخت کرنے پر غور کر رہی ہے، رپورٹ میں دعویٰ

سعودی وفد کی قیادت پاکستان-سعودی بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن آل سعود نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک، وزیر مملکت علی پرویز ملک اور مشیر برائے نجکاری محمد علی سمیت اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران سعودی سرمایہ کاروں کو توانائی، کان کنی، پٹرولیم، انفرااسٹرکچر اور صنعتی ترقی سمیت مختلف اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پاکستان اور سعودی کمپنیوں کے درمیان الگ سے بی ٹو بی ملاقاتیں بھی ہوئیں تاکہ براہ راست شراکت داری کے امکانات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سیکٹرل پریزنٹیشنز میں سعودی سرمایہ کاروں کو پاور سیکٹر کے منصوبوں، بشمول ٹرانسمیشن لائنز اور اسمارٹ میٹرنگ اقدامات میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ حکام نے توانائی شعبے میں جاری اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

مزید برآں سرمایہ کاروں کو معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں موجود وسیع مواقع سے آگاہ کیا گیا، جنہیں حکومت طویل المدتی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیتی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور سعودی سرمایہ کاری ملک کی معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں اور مراعات فراہم کر رہی ہے اور پاکستان نہ صرف ایک مضبوط دفاعی طاقت بلکہ ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت بھی بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق حالیہ معاہدے پاکستان کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کے ذریعے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جا رہا ہے، خاص طور پر انفرااسٹرکچر، توانائی، معدنیات اور لاجسٹکس جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں تاکہ معاشی استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔