سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے مہاجر نشستوں پر حکومت کا مؤقف درست قرار دے دیا

Calender Icon اتوار 7 جون 2026

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ(Supreme Court) نے صدارتی ریفرنس نمبر 1 برائے 2026ء پر اپنی اہم آئینی رائے جاری کرتے ہوئے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومتِ آزاد کشمیر کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کی رائے کے مطابق مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص نشستیں آئینی تحفظ حاصل رکھتی ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی محض انتظامی یا حکومتی فیصلے کے ذریعے ممکن نہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ رائے صدر آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 46-A کے تحت دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس پر دی گئی۔ یہ ریفرنس حکومت کی مشاورت سے دائر کیا گیا تھا تاکہ مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت، انتخابات اور متعلقہ آئینی معاملات پر عدالتی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت مکمل آئینی تحفظ رکھتی ہیں۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں کی بنیاد محض موجودہ قانونی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ ان کی تاریخی حیثیت 1960، 1964 اور 1970 کے انتخابی قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے عبوری آئین اور 1975 کے متعلقہ قانون سے جڑی ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مہاجر نشستوں کی تعداد، حیثیت یا ساخت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔ عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ انتظامی یا حکومتی اقدامات کے ذریعے ان نشستوں میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار صفدر خان لغاری انتقال کر گئے

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور آئینی فیصلوں کا اختیار سڑکوں پر ہونے والے احتجاج یا دباؤ کی سیاست کے بجائے آئینی اداروں کے پاس ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئینی معاملات کا حل صرف پارلیمانی بحث، عوامی مینڈیٹ اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب قانون ساز اسمبلی کے سپرد کیے جائیں تاکہ عوامی نمائندے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان پر فیصلہ کر سکیں۔

سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 22(3) اور 22(4) کی تشریح کرتے ہوئے اسمبلی کے اختیارات، مدت اور انتخابی عمل کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتخابات کا بروقت انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے اور کسی قسم کا احتجاج، سیاسی اختلاف یا تنازع انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

عدالت کے مطابق انتخابات کے انعقاد، امن و امان کے قیام اور آئینی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، عوامی زندگی کو مفلوج کرنا، دھونس یا طاقت کے ذریعے مطالبات منوانے کی کوشش آئینی تحفظ کی مستحق نہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو اپنے حقوق کے استعمال کے نام پر دوسرے شہریوں کے حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انتظامیہ قانون کی حکمرانی، عوامی امن اور آئینی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی پابند ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔

آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی یہ رائے نہ صرف مہاجر نشستوں کے حوالے سے آئینی ابہام دور کرتی ہے بلکہ انتخابات اور ریاستی اداروں کے کام میں مداخلت کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ آئینی تبدیلیوں کا راستہ ووٹ، پارلیمنٹ اور آئینی ترمیم ہے، نہ کہ دباؤ، احتجاجی سیاست یا محاذ آرائی۔ ان کے مطابق فیصلے نے حکومت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے یہ اصول مزید مستحکم کیا ہے کہ تمام آئینی تنازعات اور مطالبات کا حل صرف آئین اور قانون کے دائرے میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔