پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق(Khawaja Saad Rafique) نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم یہ تاثر حقائق کے مطابق نہیں ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں 6 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پارٹی کے حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق اور سیٹھ انور بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کی مجموعی تعداد 8 نشستوں تک پہنچتی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم مسلم لیگ (ن) سے کافی پہلے شروع کر دی تھی اور گلگت بلتستان میں اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی نسبتاً زیادہ مضبوط تھا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت گزشتہ دو ماہ سے انتخابی مہم میں سرگرم تھی اور انتخابی اخراجات کے حوالے سے بھی اسے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں تھا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) حسب روایت انتخابی مہم کے آغاز میں تاخیر کا شکار رہی۔ پارٹی فنڈز دستیاب نہیں تھے جبکہ مقامی سطح پر اندرونی گروپ بندیوں نے بھی انتخابی صورتحال کو متاثر کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کی جانب مرکزی قیادت کی طرف سے خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
سابق وفاقی وزیر کے مطابق پارٹی کے پاس امیدوار تو موجود تھے لیکن جیتنے کی مضبوط صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کی تعداد محدود تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنی جماعت کے میدان میں نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا، جس کا انتخابی نتائج پر واضح اثر پڑا۔
مزیدپڑھیں:فلم ’پیڈی‘ کے نامناسب مناظر پر اعتراض، جھانوی کپور کی مبینہ چیٹ لیک
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے بھی مسلم لیگ (ن) کی عوامی مقبولیت کو متاثر کیا، تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود پارٹی کی جانب سے 8 نشستیں حاصل کرنا ایک اہم کامیابی ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے تقریباً تمام حلقوں میں مؤثر انتخابی مہم چلائی۔ بڑے عوامی جلسے، ریلیاں اور کارنر میٹنگز منعقد کی گئیں جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کے مطابق متعدد حلقوں میں پارٹی امیدوار بہت کم ووٹوں کے فرق سے شکست سے دوچار ہوئے۔
انہوں نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے پر وفاقی وزیر امیر مقام، کیپٹن صفدر، مرتضیٰ جاوید عباسی، ڈاکٹر عباد اور عابد رضا کوٹلہ کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں نے دن رات محنت کی اور پارٹی مہم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خواجہ سعد رفیق نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے معاملے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، تاہم پارٹی کو وزارتیں لینے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے لیے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا زیادہ مناسب اور سیاسی طور پر فائدہ مند ہوگا۔












منگل 9 جون 2026 