ملکی معیشت کا بوجھ تنخواہ دار طبقے کے کندھوں پر، ایکسپورٹرز اور رئیل اسٹیٹ سے زیادہ ٹیکس ادا کیا

Calender Icon ہفتہ 4 جولائی 2026

پاکستانی تنخواہ دار طبقے نے ایکسپورٹرز اور رئیل اسٹیٹ(Real estate) کے شعبوں سے زیادہ ٹیکس ادا کرکے ملکی معیشت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران تنخواہ دار طبقے نے قومی خزانے میں 633 ارب روپے کا ریکارڈ انکم ٹیکس جمع کروایا جو کہ بااثر برآمد کنندگان اور پراپرٹی ڈیلرز کے مجموعی ٹیکس سے کہیں زیادہ ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ عبوری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں تنخواہ دار افراد کی جانب سے دیا گیا ٹیکس گزشتہ سال کے 585 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

یہ رقم ان بڑے شعبوں سے بھی زائد ہے جنہیں ملکی معیشت کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے، جب کہ اس کے برعکس تنخواہ دار طبقے کے مسائل کا حل اور اس کے لیے اٹھائی گئی آواز کہیں بھی مؤثر طور پر نہیں سنی جاتی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اسی عرصے میں برآمد کنندگان سے 174 ارب روپے جبکہ رئیل اسٹیٹ فروخت کنندگان سے 191 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ رئیل اسٹیٹ میں پراپرٹی کی خریداری پر دفعہ 236-کے کے تحت 87 ارب روپے جمع ہوئے، جو گزشتہ مالی سال کے 120 ارب روپے کے مقابلے میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ

مزید برآں ریٹیل کے شعبے سے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 70 ارب روپے قومی خزانے کو موصول ہوئے۔ ایف بی آر کا کل ٹیکس ہدف 13010 ارب روپے رہا، جبکہ حکام نے آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 15264 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

نئی حکمت عملی کے تحت ٹیکس افسران اور شہریوں کا براہِ راست رابطہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو ریلیف دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ انکم ٹیکس کے بوجھ کا بڑا حصہ ان افراد پر ہے جن کی تنخواہوں سے ٹیکس براہ راست کٹوتی کی صورت میں وصول کر لیا جاتا ہے اور یہی معاشرے کا پسا ہوا طبقہ مانا جاتا ہے۔