بھارت(Sikh) آج بھی سکھوں کے قتل عام پر پردہ ڈالنے پر بضد ہے۔ 80 اور 90 کی دہائی میں 30 ہزار سے زائد سکھوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ ان حقیقی واقعات پر مبنی فلم ستلج(satluj) آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز ہوتے ہی ہٹا دی گئی۔
دلجیت دوسانج کی فلم کو 4 برس سے سینما پر ریلیز ہونے کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ زی فائیو پر ریلیز ہونے کے دو دن بعد ہی مودی سرکار کے دباؤ پر فلم کو ہٹا دیا گیا۔ بھارتی فوج نے 1984 سے 1994 کے دوران 30 ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کردیا گیا تھا۔
فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ اب اس فلم کو روکا نہیں جا سکتا اور ’خالڑا صاحب کی آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا۔‘
مزیدپڑھیں:عمان کے قریب آئل ٹینکر پر حملے کے بعد آگ لگ گئی
اس فلم کا اصل نام پنجاب 95 تھا۔ مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی ریلیز طویل عرصے سے رکی ہوئی تھی۔ 7 فروری 2025 کو اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر ریلیز کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کا ٹیزر بھی جاری کر دیا گیا تھا۔
تاہم بعد میں اس کی ریلیز ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ، ارجن رامپال، سوویندر وِکی، جگجیت سندھو اور گیتیکا ودیا اوہلیان نے مختلف کردار ادا کیے ہیں۔












منگل 7 جولائی 2026 