اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے آج ایک خصوصی گفتگو میں اہم ملکی اور بین الاقوامی امور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں افغان پناہ گزینوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں اور صوبوں کی نمائندگی موجود تھی۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں وزرائے اعلیٰ میں سے صرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شریک نہ ہو سکے، اور ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے امن و امان سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ کی موجودگی ضروری تھی، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اجلاس میں بیٹھ کر بات چیت کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے، جن پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے ہر موقع پر غزہ اور فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھائی ہے، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ معرکہ حق کے بعد پاکستانیوں کو عالمی سطح پر بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔”
وزیر اطلاعات نے حکومتی اقدامات کی بدولت سبز پاسپورٹ کے وقار میں اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کوششوں نے ملک کا وقار بلند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عوام نے ٹی ایل پی اور تحریک انصاف کی احتجاج کی کال کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے مقصد احتجاج کی کالوں کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کاروبار زندگی رواں دواں ہے اور عوام اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
وزیر اطلاعات نے آخر میں زور دیا کہ حکومت ملکی ترقی اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور عوام کے تعاون سے پاکستان مزید ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔












جمعہ 17 اکتوبر 2025 