فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ریونیو فورکاسٹنگ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں براہِ راست ٹیکس مجموعی ٹیکس وصولیوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ بننے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکس محصولات کے ڈھانچے میں ایک اہم ساختی تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت ٹیکس آمدن کی نوعیت بتدریج تبدیل ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں براہِ راست ٹیکس مجموعی محصولات کا تقریباً 50 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس سے ٹیکس وصولیوں میں ان کا غالب حصہ برقرار رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جو زیادہ متوازن اور منصفانہ ٹیکس نظام کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بالواسطہ ٹیکسوں کے مقابلے میں آمدنی پر مبنی ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت نے ایس این جی پی ایل کے 50 ارب روپے کے قرض پر خودمختار گارنٹی جون 2027 تک بڑھا دی
مالیاتی پالیسی کے نقطۂ نظر سے براہِ راست ٹیکسوں کا زیادہ تناسب عام طور پر زیادہ منصفانہ اور تدریجی ٹیکس نظام، بہتر مساوات اور کھپت یا بین الاقوامی تجارت میں اتار چڑھاؤ سے کم متاثر ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے اصلاحات جاری رہیں تو براہِ راست ٹیکس درمیانی مدت میں نسبتاً زیادہ مستحکم آمدنی فراہم کرتے ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق متوقع ٹیکس آمدن میں اضافہ اور ٹیکس وصولیوں کے ڈھانچے میں تبدیلی نہ صرف محصولات کے حجم میں اضافے بلکہ ان کے معیار میں بہتری کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ رجحان مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ زیادہ مضبوط، پائیدار اور منصفانہ ٹیکس نظام کی تشکیل کے حکومتی ہدف کی بھی حمایت کرے گا۔












پیر 13 جولائی 2026 