ایران(Iran) کے خلاف جنگ میں شدت سے مذاکرات متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، ایران میں سرکاری بیانیہ صدر مسعود پزشکیان کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق صدر کو مورد الزام ٹھہرانے کا مقصد حکمران اشرافیہ کے اندر موجود اختلافات پر پردہ ڈالنا ہے، سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے پہلے بیان میں کہا کہ انہوں نے صدر پزشکیان کی وجہ سے معاہدے کی اجازت دی تاہم انہوں نے مذاکرات کی قیادت کرنے والے سپیکر اور وزیر خارجہ کے نام نہیں لئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کا نام نہ لینا اتفاق نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے، تہران میں معاہدے کے فوائد اور نقصانات کو الگ الگ دیکھا گیا ہے، معاہدہ کامیاب ہوا تو کریڈٹ قالیباف کو ملے گا، ناکامی پر ذمہ داری پزشکیان پرعائد ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ طاقتور اتحاد نے تیار کیا جسے فوجی کمپلیکس کہا جاتا ہے، اس میں انقلابی گارڈز، سکیورٹی ادارے اور مذہبی و انقلابی مالیاتی ادارے شامل ہیں، اس اتحاد کے اندر بھی 2 اہم دھڑے موجود ہیں۔
مزیدپڑھیں:آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں مزید نمایاں کمی
ایک تکنیکی اور معاشی سوچ رکھنے والا دھڑا جس کی نمائندگی محمد باقر قالیباف کرتے ہیں، دوسرا سخت گیر دھڑا جو مفاہمت کو خطرہ تصور کرتا ہے، صدر پزشکیان کو طاقتور حلقوں نے اسی لیے منتخب کیا کیونکہ ان کے پاس کسی طاقت کا مرکز موجود نہیں۔
سابق صدور کے برعکس وہ طاقت کے اصل مراکز کے لئے خطرہ نہیں بن سکتے۔












منگل 14 جولائی 2026 


