اسلام آباد، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کے اہم اجلاس میں ملک میں موبائل سروسز کے گرتے ہوئے معیار، انٹرنیٹ اسپیڈ، لوڈشیڈنگ کے ٹاورز پر اثرات اور دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی پاکستان آمد کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے نے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں پر اعتراف کیا کہ خود اتھارٹی کو بھی ٹیکس کی درست شرح کا علم نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موبائل فونز کی قیمتوں اور ان پر عائد ٹیکسوں کا معاملہ زیرِ بحث آیا، اس موقع پر چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فونز پر 60 فیصد ٹیکس عائد ہے جو کہ حد سے زیادہ ہے، پی ٹی اے کو خود بھی یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ کس موبائل فون پر کتنا ٹیکس لاگو ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین امین الحق نے پاکستان میں ایپل کمپنی کی عدم موجودگی کا معاملہ اٹھایا، انہوں نے وزارتِ آئی ٹی کو ہدایت کی کہ وہ ایپل کو پاکستان لانے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے، امین الحق کا کہنا تھا کہ جب سام سنگ، نوکیا اور دیگر بڑی عالمی کمپنیاں پاکستان آ کر اپنی اسمبلنگ اور سیٹ اپ قائم کر سکتی ہیں، تو ایپل کیوں نہیں آ سکتی؟ اگر ایپل کمپنی بھارت اور بنگلہ دیش جا سکتی ہے تو اسے پاکستان بھی آنا چاہیے۔
معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں کمیٹی ارکان نے ملک بھر میں موبائل سروس کے انتہائی ناقص اور غیر معیاری ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم موبائل سروسز کے برے معیار پر بات چیت کر کے اب تھک چکے ہیں، لیکن ان دنوں موبائل سروسز کی حالت بالکل ہی غیر معیاری اور ناگفتہ بہ ہو چکی ہے جس سے صارفین شدید اذیت کا شکار ہیں۔
سگنلز اور اسپیڈ کے مسائل کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ہم نے انٹرنیٹ اسپیڈ کو اوسط سے بہتر کر کے درمیانے درجے پر پہنچایا ہے، پاکستان میں اس وقت 440 ٹاورز پر فائیو جی سروس لانچ کر دی گئی ہے، ماضی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تھوڑا سا باہر نکلتے ہی انٹرنیٹ کی اسپیڈ انتہائی کم ہو جاتی تھی، یہاں تک کہ خود ان کے اپنے آبائی علاقے میں انٹرنیٹ اسپیڈ محض ایک ایم بی پی ایس تھی۔
چیئرمین پی ٹی اے نے سگنل ڈراپ ہونے کی ایک بڑی وجہ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کو قرار دیا، انہوں نے بتایا کہ مئی کے مہینے میں پاکستان میں اوسطاً 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں یہ لوڈشیڈنگ 18 گھنٹے تک پہنچ گئی، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے موبائل ٹاورز بند ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا
ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دلانے کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ صارفین کو بلاتعطل سروس مل سکے۔












بدھ 15 جولائی 2026 


