امتحان سے قبل ہی نتیجہ جاری، طلبہ حیران وپریشان

Calender Icon جمعرات 16 جولائی 2026

بھارتی ریاست بہار کی ایک یونیورسٹی نے امتحان سے قبل ہی نتیجہ(Result) جاری کر دیا طلبہ وطالبات جامعہ انتظامیہ کی حیران کن پھرتیوں پر پریشان ہو گئے۔

دنیا بھر میں حتمی اصول رائج ہے کہ پہلے امتحان اور پھر اس کا نتیجہ ہوتا ہے، قدرت کا بھی یہی نظام ہے۔ تاہم ایک یونیورسٹی نے حیران کن پھرتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نتیجے کا اعلان کر دیا، جس کا ابھی امتحان بھی نہیں ہوا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دنیا کا یہ منفرد کارنامہ بھارت کی ریاست بہار کی ایک یونیورسٹی نے انجام دیا ہے۔ جامعہ انتظامیہ کی اس پھرتیوں نے طلبہ وطالبات کو بھی حیران وپریشان کر دیا ہے۔

بہار میں قائم واحد ’’جے پرکاش یونیورسٹی‘‘ میں یہ حیران کن واقعہ بی اے کے تیسرے سمسٹر کے طالبعلم کنچن کمار کے ساتھ رونما ہوا، جس میں اس کی تیسرے سمسٹر کی مارک شیٹ امتحان سے قبل ہی ’’ڈیجی لاکر‘‘ پر اپ لوڈ ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ طالبعلم گزشتہ روز تیسرے سمسٹر کے امتحان کا آن لائن فارم بھرنے کے لیے متعلقہ کالج پہنچا۔ دستاویزات کی جانچ کے دوران جب اس نے ڈیجی لاکر کھولا تو وہاں اس کے نام سے’بیچلر آف آرٹس، سیمسٹر 3، اپریل 2025 امتحان (سیشن 28-2024‘ کی مارک شیٹ پہلے سے موجود تھی۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مارک شیٹ میں طالب علم کا نام، رول نمبر، رجسٹریشن نمبر اور کالج کا نام درست درج تھا۔ صرف یہی نہیں، نتیجے میں اسے ’پاس‘ بھی قرار دیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں:کیا رونالڈو نے 2030 کے فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی تصدیق کر دی؟

دوسری جانب یونیورسٹی نے اسی طالب علم کا تیسرے سمسٹر کا امتحان فارم بغیر کسی اعتراض کے قبول بھی کر لیا ہے اور مقررہ امتحان فیس بھی وصول کر لی ہے۔

اب طالب علم اس الجھن میں ہے کہ وہ باقاعدہ امیدوار کے طور پر امتحان دے یا پھر ڈیجی لاکر پر موجود مارک شیٹ کو ہی آفیشل رزلٹ تصور کرے۔

متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ ڈیجی لاکر مرکزی حکومت کا سرکاری ڈیجیٹل دستاویزاتی پلیٹ فارم ہے۔ ایسے میں اگر وہاں غلط مارک شیٹ اپ لوڈ ہوتی ہے تو یہ صرف ایک تیکنیکی خرابی نہیں بلکہ طلبا کے مستقبل سے جڑا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

اس معاملے پر جے پرکاش یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فی الحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ جس کے باعث تعلیم کے شعبہ سے وابستہ افراد اور

یونیورسٹی میں رجسٹرڈ طلبہ وطالبات اور ان کے والدین بھی سخت تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں اور وہ یونیورسٹی حکام سے اس حوالے سے وضاحت طلب کر رہے ہیں۔