بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین(Shahabuddin) نے صحت کی خرابی کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق 76 سالہ محمد شہاب الدین اپریل 2023 سے بطور صدر خدمات انجام دے رہے تھے۔
ان کی 5 سالہ مدت صدارت 2028 میں ختم ہونا تھی، جب کہ اپوزیشن جماعتیں بھی کافی عرصے سے ان سے استعفےکا مطالبہ کر رہی تھیں۔ محمد شہاب الدین کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔
شہاب الدین نے بیان میں کہاہے کہ حالیہ طبی معائنے میں ان میں آٹونومک نیوروپیتھی (Autonomic Neuropathy) کی تشخیص ہوئی ہے، اس بیماری کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر مدت کے لیے ہوش کھو دینےکی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
صدر کے پریس سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نئے صدر کے انتخاب تک قومی پارلیمان کے اسپیکر صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
مزیدپڑھیں:پہلا ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز نے پہلے روز پاکستان کیخلاف 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنالیے
بنگلادیشی آئین کے مطابق اسپیکر حفیظ الدین احمد عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جب کہ آئندہ 90 دن کے اندر نئے صدرکا انتخاب کیا جائےگا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شہاب الدین نے رواں سال مئی میں علاج کی غرض سے برطانیہ کے دورے کے دوران بھارت میں مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔
تاہم شہاب الدین نے اس کی تردیدکرتے ہوئے بنگلادیشی اخبار کو بتایا ہےکہ میں مختلف طبی مسائل کا شکار ہوں، میرے استعفے کی یہی وجہ ہے، اس وقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔
واضح رہےکہ بنگلا دیش میں صدرکا انتخاب ارکان پارلیمنٹ کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔اس وقت حکمران جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے، اس لیے امکان ہےکہ اسی جماعت کا نامزد امیدوار نیا صدر منتخب ہوگا۔













اتوار 26 جولائی 2026 

