ایرانی افزودہ یورینیم ذخائر قبضے کے خوفناک امریکی منصوبے کا انکشاف

Calender Icon پیر 27 جولائی 2026

واشنگٹن ، امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے کے لیے ایک ممکنہ فوجی منصوبے پر غور کر رہا ہے، جسے بعض دفاعی ماہرین نے ’فوجی تاریخ کا سب سے پیچیدہ اور جدید آپریشن‘ قرار دیا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز کو ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رکھا گیا ہے، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جوزف راجرز کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ممکنہ طور پر فوجی کارروائی ہی ہو سکتا ہے کیونکہ سفارتی مذاکرات مطلوبہ پیشرفت نہیں کر رہے۔

نیویارک پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس مجوزہ کارروائی میں ہزاروں امریکی زمینی فوجیوں کو ایران کی انتہائی محفوظ جوہری تنصیبات میں داخل ہونا پڑ سکتا ہے، جہاں انہیں بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹوں کا سامنا ہوگا، فوجی دستے جوہری مراکز کے اطراف حفاظتی حصار قائم کریں گے، انجینئرنگ ٹیمیں تباہ شدہ داخلی راستوں کو کھولنے کا کام کریں گی، اس کے بعد امریکی اسپیشل فورسز کی ایک محدود ٹیم افزودہ یورینیم کو تحویل میں لینے کی انتہائی خطرناک کارروائی انجام دے گی۔

جوزف راجرز کہتے ہیں کہ یہ آپریشن لاجسٹک، عسکری اور سکیورٹی اعتبار سے غیر معمولی حد تک پیچیدہ ہوگا، اگرچہ ایران کی فوج کو حالیہ جنگی کارروائیوں میں نقصان پہنچا، تاہم وہ اب بھی ایک منظم اور مؤثر عسکری قوت رکھتی ہے، جس کے باعث ایسی کارروائی کو انتہائی مشکل تصور کیا جا رہا ہے۔

سابق امریکی قومی سلامتی کونسل کے اہلکار رچرڈ گولڈ برگ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو کارروائی کے دوران جوہری مراکز کے گرد مکمل حفاظتی حصار قائم کرنا ہوگا اور افزودہ یورینیم کی محفوظ منتقلی کے لیے زمینی اور فضائی راستے مکمل طور پر محفوظ بنانے ہوں گے، سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ امریکی افواج اتنے طویل عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے محفوظ انخلا کیسے یقینی بنائیں گی۔

امریکی اخبار کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ایران بھی ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنی جوہری تنصیبات، بالخصوص اصفہان کے مرکز، کی سکیورٹی مزید سخت کر رہا ہے، رچرڈ گولڈ برگ نے مزید کہا کہ مختلف اطلاعات کے مطابق اصفہان کی تنصیبات کے اطراف دفاعی انتظامات بڑھائے گئے ہیں، بارودی جال بچھائے گئے ہیں اور اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اس وقت کسی بھی ممکنہ کارروائی میں اچانک حملے کا عنصر تقریباً موجود نہیں کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ممکنہ اہداف سے آگاہ ہیں۔

سی این این کی گزشتہ ماہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اصفہان کی زیرزمین سرنگوں میں بارودی مواد نصب کر رکھا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کو روکا جا سکے، مزید برآں پک ایکس ماؤنٹین نامی مقام بھی ایک نئے ممکنہ ہدف کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ایران نے گزشتہ ماہ نطنز سے سیکڑوں جوہری سینٹری فیوجز منتقل کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو عالمی عدالت کے وارنٹ سے بچنے کیلئے امریکا کو استعمال کر رہے ہیں، ایران

رچرڈ گولڈ برگ کا خیال ہے کہ اگر امریکی افواج کو پک ایکس ماؤنٹین کے اندر کارروائی کرنا پڑی تو اس کا مقصد ممکنہ طور پر وہاں موجود تنصیبات کو تباہ کرنا ہوگا کیونکہ صرف فضائی حملوں سے انہیں مکمل طور پر ناکارہ بنانا ممکن نہ ہو، اس نوعیت کی کارروائی وینزویلا میں سابق صدر نکولس مادورو کیخلاف کیے گئے خصوصی آپریشن سے کسی حد تک مشابہ ہو سکتی ہے، جس میں مخصوص مقام پر داخل ہو کر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے اور فوری انخلا کی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی۔