جنگ کے اثرات برقرار، پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

Calender Icon اتوار 2 اگست 2026

دنیا کی دو بڑی تیل کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ جاری جنگ اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث رواں سال کے دوسرے نصف میں ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ ایندھن کی عالمی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

کمپنیوں کے مطابق ایندھن کے ذخائر میں کمی، بعض بڑے برآمد کنندگان کی جانب سے سپلائی محدود ہونے اور ریفائنریوں میں فنی رکاوٹوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں دباؤ برقرار ہے، جس سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:ہنگری کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر بند کرنے کا فیصلہ

بیانات کے مطابق دونوں کمپنیوں نے دوسری سہ ماہی کے دوران ریفائننگ کے شعبے میں نمایاں منافع حاصل کیا۔ ایک کمپنی نے ڈیزل کی ریکارڈ پیداوار جبکہ دوسری نے اپنی ریفائنریوں میں یومیہ 10 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل پراسیس کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی سپلائی معمول پر آنے اور عالمی شپنگ راستوں کی مکمل بحالی تک ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور صارفین دونوں پر پڑنے کا امکان ہے۔