کیا پی ٹی سی ایل ٹیلی نار ڈیل کے بعد ایزی پیسہ خریدنے جا رہی ہے؟

Calender Icon بدھ 5 اگست 2026

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان (Telenor Pakistan) کے حصول کے بعد اب ملک کی سب سے بڑی ڈیجیٹل مالیاتی سروس ایزی پیسہ (Easypaisa) میں اکثریتی حصص خریدنے کی اطلاعات سامنے آ گئی ہیں۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو اسے پاکستان کے ٹیلی کام اور فِن ٹیک شعبے کی تاریخ کے بڑے کارپوریٹ سودوں میں شمار کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق پی ٹی سی ایل کی اعلیٰ انتظامیہ نے ایزی پیسہ میں اکثریتی شیئرز خریدنے کے لیے Binding Offer جمع کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پیش رفت پی ٹی سی ایل کی اس حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے جس کے تحت کمپنی روایتی ٹیلی کام خدمات سے آگے بڑھتے ہوئے ایک جامع ڈیجیٹل ایکو سسٹم تشکیل دینا چاہتی ہے۔

پی ٹی سی ایل نے حالیہ دنوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (Pakistan Stock Exchange – PSX) کو بھیجے گئے نوٹس میں سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا تھا کہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک ایسے کاروبار میں اکثریتی حصص خریدنے کے لیے بائنڈنگ آفر کی منظوری دی ہے، تاہم رازداری کے تقاضوں اور حتمی معاہدہ نہ ہونے کے باعث متعلقہ کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدہ اس وقت ڈیو ڈیلیجنس (Due Diligence) کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے مالی، قانونی اور آپریشنل معاملات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حتمی تجارتی شرائط طے کی جا سکیں۔

اس مجوزہ خریداری کو مکمل ہونے سے قبل مختلف ریگولیٹری اداروں کی منظوری، کامیاب مذاکرات اور حتمی قانونی معاہدوں پر دستخط کی ضرورت ہوگی۔ پی ٹی سی ایل نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب بھی اس معاملے میں کوئی اہم پیش رفت ہوگی تو اسے ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق عوام اور سرمایہ کاروں کے سامنے لایا جائے گا۔

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایزی پیسہ ایک مرتبہ پھر پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن جائے گی، کیونکہ ٹیلی نار پاکستان کے پی ٹی سی ایل میں انضمام کے بعد ایزی پیسہ بھی اسی گروپ کے تحت آ سکتی ہے۔ اس سے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل والٹ اور برانچ لیس بینکنگ پلیٹ فارم کی ملکیت پی ٹی سی ایل کے دائرہ کار میں آ جائے گی۔

مزیدپڑھیں:سونے کی قیمتوں میں اضافہ،2ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ماہرین کے مطابق ایزی پیسہ کے حصول سے پی ٹی سی ایل کی ڈیجیٹل حکمت عملی کو نمایاں تقویت ملے گی۔ کمپنی اپنی ملک گیر ٹیلی کام انفراسٹرکچر، فائبر نیٹ ورک، براڈ بینڈ سروسز، یوفون (Ufone) کے کروڑوں صارفین اور ایزی پیسہ کے ڈیجیٹل والٹ، موبائل ادائیگیوں، مرچنٹ نیٹ ورک اور برانچ لیس بینکنگ سسٹم کو یکجا کر کے پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

پی ٹی سی ایل کی توسیعی حکمت عملی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ناروے کی کمپنی ٹیلی نار گروپ (Telenor Group) نے پاکستان سے اپنے کاروبار کے انخلا کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 2023 میں پی ٹی سی ایل نے تقریباً 108 ارب روپے مالیت کے معاہدے کے تحت ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز (Orion Towers) خریدنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (Competition Commission of Pakistan – CCP) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (Pakistan Telecommunication Authority – PTA) سمیت متعلقہ اداروں سے منظوری ملنے کے بعد یہ خریداری دسمبر 2025 میں مکمل ہوئی۔

اس کے بعد پی ٹی سی ایل نے ٹیلی نار پاکستان کو اپنی موبائل کمپنی یوفون کے ساتھ ضم کرنے کا عمل شروع کیا، جس کے تحت دونوں کمپنیوں کے نیٹ ورک، اسپیکٹرم اور صارفین کو یکجا کیا گیا۔ یکم جولائی 2026 کو قانونی انضمام مکمل ہونے کے بعد ٹیلی نار پاکستان باضابطہ طور پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ (Pakistan Telecommunication Mobile Limited – PTML) کا حصہ بن گئی، جبکہ وقت کے ساتھ ٹیلی نار برانڈ کو مرحلہ وار ختم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اگر پی ٹی سی ایل ایزی پیسہ میں اکثریتی حصص حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کے ٹیلی کام، ڈیجیٹل بینکنگ اور فِن ٹیک شعبے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے، جس سے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات، موبائل ادائیگیوں اور برانچ لیس بینکنگ کے شعبے میں مقابلہ مزید بڑھنے کی توقع ہے۔