عالمی مارکیٹ میں جمعہ کو سونے کی قیمت(Gold Rates) میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتی دھات جنوری کے بعد اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب گامزن ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی روزگار کے اہم اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جن سے امریکا میں شرح سود کے مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔
کاروباری سرگرمیوں کے دوران اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے بعد 4,254.11 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ ایک روز قبل سونا تقریباً سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، جبکہ رواں ہفتے اب تک اس کی قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.3 فیصد بڑھ کر 4,312 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔
اسٹون ایکس کے سینئر تجزیہ کار میٹ سمپسن (Matt Simpson) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات بڑھنے سے عالمی سطح پر افراطِ زر سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی ہے، جس نے سونے کو 4,000 ڈالر فی اونس سے اوپر مزید مضبوط ہونے میں مدد فراہم کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے امریکی فوج کو بعض ہتھیاروں کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
مزیدپڑھیں:ایران سے بات چیت جاری ہے، جنگ جلد ختم ہوجائے گی، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب خام تیل کی قیمتیں بھی ہفتہ وار بنیاد پر کمی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں کمی سے افراطِ زر کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینکوں پر شرح سود مزید بڑھانے کی ضرورت بھی محدود ہو سکتی ہے۔
اگرچہ سونے کو عام طور پر مہنگائی کے خلاف تحفظ اور محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی کشش کم کر دیتی ہے کیونکہ سونا سرمایہ کاروں کو کوئی باقاعدہ منافع یا ییلڈ فراہم نہیں کرتا۔ اسی لیے امریکی مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات سونے کی قیمت کے لیے اہم عنصر بنی ہوئی ہیں۔
سرمایہ کار اب امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری ہونے والی جولائی کی نان فارم پے رولز (Non-Farm Payrolls) رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار امریکی لیبر مارکیٹ کی صورتحال واضح کرنے کے ساتھ ساتھ فیڈرل ریزرو کے آئندہ شرح سود کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول (CME FedWatch Tool) کے مطابق ستمبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان کم ہو کر 55 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 63 فیصد تھا۔
دریں اثنا دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی مجموعی طور پر مثبت رجحان دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت 0.8 فیصد اضافے کے بعد 61.96 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.4 فیصد بڑھ کر 1,735.71 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم 0.3 فیصد کمی کے بعد 1,367.06 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی ہفتہ وار بنیاد پر مجموعی اضافے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔













جمعہ 7 اگست 2026 

