خراب دودھ کے 175 روپے واپس مانگنے والی خاتون کے ساتھ تقریباً 2 لاکھ کا فراڈ

Calender Icon ہفتہ 8 اگست 2026

بھارتی ریاست گجرات (Gujrat)کے شہر راجکوٹ میں ایک 63 سالہ ریٹائرڈ خاتون صرف 175 روپے کے ریفنڈ کے لیے مبینہ طور پر ایک بڑے سائبر فراڈ کا شکار ہوگئیں۔ دھوکے باز نے خود کو آن لائن گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم کے کسٹمر کیئر نمائندے کے طور پر ظاہر کیا اور خاتون سے مبینہ طور پر 1 لاکھ 91 ہزار روپے ہتھیا لیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے ایک معروف فوری گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم سے دودھ کے 5 پیکٹ منگوائے تھے۔ گھر پر آرڈر پہنچنے کے بعد خاتون نے دیکھا کہ دودھ خراب تھا۔

انہوں نے رقم واپس لینے کے لیے گوگل پر جا کر کمپنی کےکسٹمر کیئر نمبر کی تلاش شروع کردی۔ سرچ کے دوران سامنے آنے والے ایک فون نمبر پر رابطہ کیا۔ کال موصول کرنے والے شخص نے اپنا نام اسماعیل انصاری بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کا نمائندہ ہے۔

متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ اسماعیل انصاری نے ان کا اعتماد جیتا اور کہا کہ رقم کی واپسی یو پی آئی کے ذریعے کی جائے گی۔

اس کے بعد اس نے خاتون کو ایک اے پی کے فائل بھیجی اور کہا کہ اسے اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کریں۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے بعد اس شخص نے چالاکی سے مجھ سے مختلف بینک اکاؤنٹس اور یو پی آئی آئی ڈیز میں کل 1 لاکھ 91 ہزار روپے منتقل کروا لیے۔

مزیدپڑھیں:شاہین آفریدی اور نسیم شاہ سمیت فاسٹ بولر کو سلیکٹڈ کرکٹ کھیلنی چاہیے: عثمان شنواری

جب خاتون کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو انہوں نے فوراً سائبر ہیلپ لائن پر رابطہ کیا اور واقعے کی شکایت درج کرائی۔

راجکوٹ شہر کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں اس معاملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے دھوکہ دہی اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان موبائل نمبروں اور بینک اکاؤنٹس کی جانچ شروع کر دی ہے جو اس فریب میں استعمال ہوئے تھے تاکہ فراڈ میں ملوث افراد تک پہنچا جاسکے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آن لائن کسٹمر کیئر نمبر تلاش کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

سرچ انجن پر نظر آنے والا ہر فون نمبر متعلقہ کمپنی کا سرکاری نمبر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی نامعلوم شخص کی جانب سے بھیجی گئی اے پی کے فائل یا کوئی غیر معروف ایپ موبائل میں انسٹال کرنا بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری یا رقم کی واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔