زمین کی کشش ثقل کچھ دیر رکنے کے دعوے، ناسا نے صورتحال واضح کردی

Calender Icon جمعرات 13 اگست 2026

سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے یہ دعوے تیزی سے گردش کر رہے ہیں کہ 12 اگست کو زمین کی کششِ ثقل(Gravity) چند سیکنڈز کے لیے ختم ہوجائے گی جس کے نتیجے میں ایک تباہ کن واقعہ پیش آسکتا ہے۔ تاہم امریکی خلائی ادارے ناسا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

وائرل پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ زمین کی کششِ ثقل 12 اگست کو 7 سیکنڈز کے لیے غائب ہوجائے گی اور حکومت اس مبینہ خطرے سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے چھپا رہی ہے۔

ان افواہوں میں ایک فرضی منصوبے پروجیکٹ اینکر کا بھی ذکر کیا گیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ناسا کو ایک آنے والی کششِ ثقل کی غیر معمولی تبدیلی کا پہلے سے علم ہے۔ ان پوسٹس کے مطابق یہ مبینہ واقعہ 14:33 یو ٹی سی (جنوبی افریقی معیاری وقت کے مطابق 16:33 بجے) پیش آنا تھا اور تقریباً 7 سیکنڈ تک جاری رہنا تھا۔

ناسا نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین کی کششِ ثقل کا تعلق براہ راست اس کی کمیت سے ہے اور اس میں اچانک تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

ناسا کے مطابق زمین کی کشش ثقل یا مجموعی ثقلی قوت کا تعین اس کی کمیت سے ہوتا ہے۔ زمین کی کششِ ثقل صرف اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے جب زمین کے پورے نظام، جس میں اس کا مرکز، مینٹل، کرسٹ، سمندر، زمینی پانی اور ماحول شامل ہیں کی کمیت میں کمی واقع ہو۔

مزیدپڑھیں:پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خلائی ادارے نے مزید واضح کیا کہ 12 اگست 2026 کو زمین اپنی کششِ ثقل سے محروم نہیں ہوگی۔

کچھ سوشل میڈیا دعووں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ مبینہ واقعہ بلیک ہولز سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے باعث پیش آئے گا تاہم سائنس دانوں کے مطابق ایسی لہروں کا زمین پر اثر انتہائی معمولی ہوتا ہے۔


لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹر کے مطابق بلیک ہولز اور کائنات کے دیگر انتہائی طاقتور واقعات سے پیدا ہونے والی ثقلی لہریں اگر زمین تک پہنچ بھی جائیں تو ان کے اثرات نہایت کم ہوتے ہیں اور کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ یہ لہریں زمین کی کششِ ثقل کو ختم کرسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق زمین کی کششِ ثقل ایک مستقل قدرتی قوت ہے جو ہمارے سیارے کے وجود اور کمیت سے جڑی ہوئی ہے اس لیے اس کے چند سیکنڈ کے لیے غائب ہوجانے کا دعویٰ سائنسی حقائق کے خلاف ہے۔