پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج

Calender Icon جمعرات 13 اگست 2026

پاکستان کو باسمتی چاول(Basmati Rice) کے برآمدی حقوق کے معاملے میں اہم قانونی کامیابی مل گئی، جہاں آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی باسمتی سے متعلق ٹریڈ مارک اپیل مسترد کردی۔ عدالت نے اپیڈا کو مخالف فریق کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ آسٹریلوی وفاقی عدالت ٹریڈ مارک رجسٹرار کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ تجارت نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ باسمتی کے معاملے پر پاکستان کے اصولی اور مستقل مؤقف کی تائید کرتا ہے۔

وزارتِ تجارت کے مطابق بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں ’باسمتی‘ کو سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی، تاہم آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے 22 دسمبر 2022 کو درخواست مسترد کردی تھی۔

رجسٹرار کے فیصلے کے خلاف اپیڈا نے آسٹریلیا کی وفاقی عدالت سے رجوع کیا، تاہم عدالت نے بھارتی ادارے کی اپیل بھی مسترد کردی۔

تنازع شروع کیسے ہوا؟
بھارت کے ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں ’باسمتی‘ کو چاول کے لیے سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی۔

تاہم آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس کے نمائندے نے 22 دسمبر 2022 کو درخواست مسترد کردی تھی۔ فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ ’باسمتی‘ ایسا لفظ نہیں جس کے ذریعے صرف اپیڈا سے تصدیق شدہ چاول کو دوسرے ممالک میں قانونی طور پر پیدا اور فروخت ہونے والے باسمتی چاول سے الگ کیا جاسکے۔

بعدازاں اپیڈا نے اس فیصلے کو آسٹریلیا کی وفاقی عدالت میں چیلنج کردیا، تاہم عدالت نے اب اس کی اپیل بھی مسترد کردی ہے۔

پاکستانی باسمتی تاجروں کے حق کی توثیق
پاکستان کی وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی رجسٹرار کے ابتدائی فیصلے میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے اور پاکستانی تاجروں کو بھی ’باسمتی‘ کا نام استعمال کرنے کا مساوی اور جائز حق حاصل ہے۔

مزیدپڑھیں:گووندا کی مبینہ گرل فرینڈ کومل رانی کون ہیں؟

وفاقی عدالت کی جانب سے اپیڈا کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد یہ مؤقف برقرار رہا ہے۔

وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ فیصلے سے پاکستان کے باسمتی کا نام کسی ایک ملک یا ادارے کی اجارہ داری قرار دینے کے مؤقف کو تقویت ملی ہے اور پاکستانی باسمتی کاشتکاروں، ملرز اور برآمد کنندگان کے تجارتی اور دانشورانہ املاک کے حقوق محفوظ ہوئے ہیں۔

پاکستان کا دیرینہ مؤقف
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ باسمتی ایک ایسی جغرافیائی شناخت ہے جو تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے بعض علاقوں پر مشتمل خطے سے وابستہ ہے، اس لیے کسی ایک ملک یا ادارے کو اس نام پر مکمل اجارہ داری نہیں دی جاسکتی۔

وزارتِ تجارت نے وفاقی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے اسی اصولی مؤقف کی توثیق قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کی ٹیم، متعلقہ حکام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے زرعی ورثے، تجارتی مفادات اور برآمدی شناخت کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔