اسلام آباد: ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت گندم سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں ملک میں گندم کی دستیابی، ضروریات اور قیمتوں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں حکام نے صوبوں کی ضروریات اور مطالبات کی روشنی میں گندم کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ شرکاء نے موجودہ ذخائر، گندم کی دستیابی اور مستقبل کی ملکی ضروریات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا۔
حکام نے بتایا کہ صوبوں کی طلب اور ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اجلاس میں گندم کی درآمد سے متعلق حکومتی فیصلے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کے مطابق 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا مقصد ملکی ضروریات پوری کرنا، گندم کی وافر دستیابی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گندم کی مناسب دستیابی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور ملک میں گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ گندم کی طلب و رسد کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور صوبوں کی ضروریات کے مطابق بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں۔
اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارت تجارت، سندھ اور پنجاب کے متعلقہ حکام سمیت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت گندم کی بلا تعطل دستیابی اور عوام کو مناسب قیمت پر گندم کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔













جمعرات 13 اگست 2026 

