رِنگ میں غیر قانونی وار کے 11 سال بعد 33 سالہ سابق باکسر زندگی کی بازی ہار گئے

Calender Icon ہفتہ 15 اگست 2026

سابق پروفیشنل باکسر پریچرڈ کولن(prichard colon) 33 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ تقریباً 11 سال قبل ایک باکسنگ مقابلے کے دوران سر کے پچھلے حصے پر لگنے والے غیر قانونی مکے کے بعد شدید دماغی چوٹ کا شکار ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی تھی۔ یہ ان کے باکسنگ کے سفر کی پہلی اور آخری ہار تھی۔

پریچرڈ کولن کے والد رچرڈ کولن نے جمعرات کو فیس بک پر اپنے بیٹے کے انتقال کی خبر شیئر کی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا، ’مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ اپنے بیٹے پریچرڈ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع دینا پڑ رہی ہے۔ اتنے سالوں تک آپ کی محبت اور دعاؤں کا بہت شکریہ۔ جتنا ہو سکے، براہ کرم ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔‘


پریچرڈ کولن امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوئے تھے، تاہم بچپن میں ان کا خاندان پورٹو ریکو نامی ملک میں منتقل ہوگیا تھا۔

وہ بہت چھوٹی عمر میں ہی ایک شاندار باکسر بن کر ابھرے تھے۔ 20 سال کی عمر سے پہلے ہی انہوں نے پانچ بڑے مقابلے جیتے اور ایک گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔

مزیدپڑھیں:فیلڈ مارشل کی جانب سے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، ملکی دفاع کیلئے خدمات کو سراہا

2013 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر پروفیشنل باکسنگ شروع کی اور خوب نام کمایا۔ انہوں نے 17 میں سے 16 میچ جیتے جن میں سے 13 میچوں میں انہوں نے مخالف کھلاڑیوں کو بری طرح ہرا کر ناک آؤٹ کیا تھا۔

ستمبر 2015 میں انہوں نے سابق ڈبلیو بی اے چیمپئن ویوین ہیرس کے خلاف بھی کامیابی حاصل کی اور انہیں چوتھے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کردیا۔ اس وقت کولون کو باکسنگ کی دنیا کا ایک ابھرتا ہوا اور باصلاحیت کھلاڑی سمجھا جا رہا تھا۔

لیکن اس کامیاب مقابلے کے صرف ایک ماہ بعد 17 اکتوبر 2015 کو ان کی زندگی کا وہ افسوسناک دن آیا جب ان کا مقابلہ ٹیرل ولیمز نامی باکسر سے ہوا۔ ٹیرل ولیمز کے خلاف ہونے والی اس فائٹ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

اس وقت پریچرڈ کی عمر صرف 23 سال تھی۔ مقابلے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ میچ کے ساتویں راؤنڈ میں ولیمز نے کولن کے سر کے پچھلے حصے پر مکا مارا۔

اس مکے کے بعد کولن کچھ دیر کے لیے متاثر دکھائی دیے اور انہیں اپنے کونے میں طبی معائنہ بھی کروانا پڑا۔ غیر قانونی مکے پر ولیمز کو سزا بھی دی گئی۔

اس کے باوجود مقابلہ جاری رہا اور نویں راؤنڈ میں کولن دو مرتبہ رنگ میں گر گئے۔ بعد میں نویں راؤنڈ کے بعد انہیں مقابلے سے نااہل قرار دے دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کولن کے کونے میں موجود افراد نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ نویں راؤنڈ کے بعد مقابلہ ختم ہوگیا ہے اور انہوں نے ان کے دستانے اتار دیے تھے۔

مقابلے کے بعد کولن کے سر میں شدید تکلیف شروع ہو گئی اور ان کی حالت بگڑنے لگی۔ انہیں جلدی سے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے دماغ پر دباؤ کم کرنے کے لیے ایک بڑا آپریشن کیا گیا۔ اگرچہ ان کی جان تو بچ گئی لیکن ان کی چوٹیں اتنی گہری تھیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے اور پچھلے 11 سالوں سے وہیل چیئر پر بے بسی کی زندگی گزار رہے تھے۔

حادثے کے بعد ان کی زندگی کا بیشتر حصہ علاج اور دیکھ بھال میں گزرا۔ ان کے والد کی جانب سے وقتاً فوقتاً شیئر کی جانے والی تصاویر میں انہیں وہیل چیئر پر دیکھا جاتا رہا۔ ایک نوجوان اور کامیاب باکسر کی زندگی چند لمحوں میں مکمل طور پر بدل گئی۔

ورلڈ باکسنگ کونسل (ڈبلیو بی سی) نے بھی پریچرڈ کولن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انہیں ’سدا بہارچیمپئن‘ قرار دیا۔

کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی باکسنگ برادری ان کی موت پر انتہائی افسردہ ہے اور ڈبلیو بی سی کے صدر ماریشیو سلیمان سمیت پوری تنظیم ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتی ہے۔

ڈبلیو بی سی نے کہا، ’پریچرڈ نے صرف مہارت کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا بلکہ وہ پورٹو ریکو کا پرچم فخر اور وقار کے ساتھ بلند کرنے کے جذبے کے ساتھ لڑے۔‘

تنظیم کے مطابق کولون کو پہلے بھی ’’اعزازی عالمی چیمپئن‘‘ کا اعزاز دیا گیا تھا اور انہیں ڈبلیو بی سی کی مشہور گرین اینڈ گولڈ بیلٹ پیش کی گئی تھی، جسے تنظیم نے وہ بیلٹ قرار دیا جس کے وہ ’’ہمیشہ سے مستحق‘‘ تھے۔

تنظیم نے مزید بتایا کہ پریچرڈ کے ساتھ ہونے والے اس دردناک حادثے کے بعد انہوں نے سر کے پچھلے حصے پر مکے مارنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے اور کھلاڑیوں کی حفاظت کے اصول مزید سخت کر دیے ہیں۔

یوں باکسنگ کی دنیا کا ایک کامیاب نوجوان کھلاڑی، جس نے 17 میں سے 16 پروفیشنل مقابلے جیتے تھے، ایک مقابلے کے بعد زندگی بھر کے لیے معذور ہوگیا اور بالآخر 33 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔